WebHutt

Designing Your Digital Dreams.

Archives January 2022

♻️Ⓜ️♻️ ♥️ والدین سے درخواست ♥️✅ نکاح آسان کرو، یہاں تک کے زنا مشکل ہو جائے ۔!

جنسی  بے راہ روی اور جھوٹے عشق و محبت کے تعلقات کو فروغ ملنے میں سب سے بڑا کردار ان والدین کا ہے جنہوں نے ایک تو اپنے بچوں کی تربیت قرآن و سنت کے‌مطابق نہیں کی، اور دوسری یہ کہ لڑکے، لڑکیوں کے مقررہ مدت میں رشتے کرنے میں دیری کی کیونکہ نکاح ایک فطری عمل ہے اگر شریعت کے مطابق بلوغت کو پہنچنے پر لڑکے، لڑکیوں کا انکے مناسب جوڑ کے لحاظ سے نکاح نہیں کروایا گیا تو وہ گناہوں میں مبتلا ہونگے اور اسکا وبال والدین پر ہوگا، آج رشتہ کرنے کا معیار یہ بن چکا ہے کہ لڑکا کتنا ہی آوارہ قسم کا کیوں نہ ہو، اس میں دینداری نام کیلیے بھی باقی نہ رہے، اس کے بغیر نکاح کے جنسی تعلقات کئ کئی فاحشہ عورتوں سے ہو، بد اخلاق بد کردار ہو، تعلم یافتہ نہ بھی ہو، نہ کوئی ہنر ہاتھ میں ہو، پھر بھی لڑکی والوں کا رشتہ تلاش کرنے کا معیار یہ بن چکا ہے کہ اسکی دولت، زمین، کھیتی، پیسہ، بنگلہ، گاڑی، اسٹیٹس، دیکھا جاتا ہے، اور اگر کوئی دین داری اور اخلاق کی بات کریں تو اسے یہ کہے کر خاموش کردیا جاتا ہے کہ اللہ ہدایت دینے والا ہے سدھر جائے گا، اور وہی اگر کسی مڈل کلاس کے با اخلاق با کردار لڑکے کا رشتہ آجائیں تو اسے خالی ہاتھ واپس کردیا جاتا ہے کہ ہماری لڑکی کے خرچے بہت ہیں یہ برداشت نہیں کر پائے گا، یہ کیسا اندھا انصاف ہے اور کیسا معیار معاشرے میں رواج عروج پارہا ہے کیا اللّٰه تعالیٰ قادر نہیں ہے۔

اللہ تعالیٰ کے پاس تو دنیا کی اہمیت مچھر کے پر کے برابر بھی نہیں ہے تو کیا وحدہُ لا شریک اس دیندار میڈل کلاس لڑکے کو مال و دولت سے نہیں نواز سکتا اصل چیز تو آخرت ہے اللہ اتنا مہربان ہے کہ آخرت کی کامیابی دے رہا ہے دنیا کونسی بڑی بات ہے اور دنیا کا نظام تو اللہ کی دونوں انگلیوں کے درمیان ہیں جب چاہے حالات تبدیل کر دیتا ہے، اور پھر اگر لڑکا، لڑکی ایک دوسرے کو پسند بھی کرلیں تو وہاں والدین آڑ بن جاتے ہے حالانکہ کے یہ انکا حق ہے کے ایک دوسرے کو  ایک نظر دیکھیں تاکہ آگے چل کر کوئی پریشانی یا رشتہ میں دراڑ کا سبب نہ بن جائے ایسے بہت سے حادثات ہماری اطراف میں دیکھنے میں آتے ہیں کہ ماں باپ لڑکی پسند کرنے جاتے ہیں اور رشتہ بھی طے کرلیتے ہے لڑکے کو لڑکی نہیں بتائی جاتی اور لڑکی کو لڑکا نہیں بتایا جاتا، اور والدین سمجھتے ہے کہ ہم گھر کے بڑے ہے ہم نے جو طے کرلیا وہی ہوگا، اور پھر کچھ ہی دنوں یا مہینے میں وہ رشتہ ٹوٹ جاتا ہے، اگر معیار پر دونوں خاندان اتر بھی گے تو ذات اور برادری کو دیکھا جاتا ہے ایسے بہت سے عمدہ رشتہ ذات و برادری کے بھینٹ چڑھ جاتے ہیں میں ایسے عمدہ رشتہ جانتا ہوں کہ لڑکی مفتیہ ہے اور لڑکا بھی تھوڑا بہت دینی تعلیم سے آراستہ مگر کیا برادری دونوں کی مختلف ہے بس پھر کیا اسی بے حس معاشرہ کے نظام کی نظر چڑھ گئے حالانکہ رشتے طے کرنے کا معیار یہ ہے کہ لڑکی کی دینداری دیکھی جائے نا کے حسن اور مال و دولت کو، دونوں طرف سے اگر یہ شریعت کے مطابق باتیں پائی جاتی ہے تو نکاح میں دیری نہیں کرنی چاہیے۔

نکاح کیلئے صرف اتنا ہی کافی ہے کہ شوہر لڑکی کا کھانے پہنے رہنے کا خرچ اٹھانے کے قابل ہو، ایسی کئی احادیث نکاح کی تعلق سے ملتی ہے جس میں نکاح میں جلدی کرنے کیلیے کہا گیا ہے، آج معاشرے میں بگاڑ کا سبب خود والدین بنے ہوئے ہیں کیونکہ یہی لوگ اپنی اپنی سوچ کے مطابق اپنے‌ معیار کے مطابق رشتے تلاش کرنے میں اپنے بچوں کی جوانیاں برباد کررہے ہیں، آج لڑکیوں کو اعلیٰ تعلیم دلائی جاتی ہے میرا کہنے کا‌مقصد تعلیم سے روکنا نہیں ہے لیکن جو آج اعلیٰ تعلیم کے نام پر لڑکیوں کی عمریں شادی کی عمر سے تجاوز کر جاتی ہے اور پھر اخبارات اور ویب سائٹ، پر اشتہارات دیے جاتے ہیں اور پھر کوئی لڑکا نہیں ملتا جو ان تعلم یافتہ لڑکیوں سے شادی کریں یا پھر انکے معیار کا لڑکا نہیں مل پاتا جو انہیں اپنا سکے، ایسی ہزاروں لڑکیاں گھروں میں سسکیاں لے کر مر‌ رہی ہے، اور‌ معاشرے کا یہ رواج بن گیا ہے کہ زیادہ عمر کی لڑکیوں سے نکاح نہیں کیا جاتا بیوہ خواتین سے نکاح نہیں کیا جاتا اسے معیوب سمجھا جاتا ہے حالانکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے خود بیواؤں سے نکاح کیا۔

معاشرہ جنسی استحصال کا شکار ہورہا ہے، لڑکے لڑکیوں کے بروقت نکاح نہ کرنے کی بنا پر بے حیائی (فحاشی)، درندگی بڑھتی جارہی ہے۔

آج حالات یہ بنے ہوئے ہیں کے لڑکے لڑکیاں نکاح کی عمر کو پہنچ جاتے ہے اور کالجوں یونیورسٹیوں میں غیر محرموں سے تعلقات قائم کرلیتے ہے یہاں تک کے لڑکوں سے لڑکیاں عشق و محبت کے نام پر اپنے والدین اور دین و ایمان  کو خیرباد کہہ دیتی ہیں ایسی کئ خبریں مل چکی ہیں۔والدین سمجھتے ہیں لڑکی اعلیٰ تعلیم حاصل کر رہی ہیں وہ بلا تحقیق بھروسے پر گاؤں سے شہروں کی طرف اپنی بچیوں کو ہاسٹل میں داخل کراتے ہیں، اور وہ غیروں کے ساتھ رنگ رلیاں مناتی ہیں۔

آج یہ معاشرہ اور ہمارے نوجوان جس میں اکثر یونیورسٹیوں کے لڑکے لڑکیاں موجود ہوتی ہے جو ایسی  پارٹیوں کو شان سے سلیبریٹ کرتے ہیں جس میں ناچ گانا ہوتا ہے جہاں پر بنت حوا عشق و محبت کے جھوٹے بندھن میں پھنس کر اپنی عصمتیں گنوا دیتی ہیں اور پھر عمر بھر پچھتانے کے سوا کچھ نہیں بچتا، یہ حالات اس وجہ سے عروج پارہے ہیں کیونکہ نوجوان لڑکے لڑکیوں کے بالغ ہونے پر نکاح میں دیر کی جارہی ہیں اور وہ اپنی حوس کو مٹانے کیلیے ایسے غیر شرعی راستے اپناتی ہے بہت کم ایسے لڑکے لڑکیاں ہوتے ہے جو ایسے حالات میں خود پر قابو رکھ پاتے ہیں لیکن والدین کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے بچوں کے بالغ ہونے پر جوڑ کا رشتہ دیکھ کر فوراً نکاح کردیں، اگر صحیح اسلامی طریقہ پر فطری عمل کو پورا نہیں کیا گیا تو انسان کی فطرت ہے وہ غلط راستہ اختیار کرسکتا ہی اس لیے ضروری ہےکہ رشتوں کو اپنے اپنے معیار پر نہ پرکھے اور نا ہی اناؤ ذات پات برادری کے بت باندھ کر رکھے بلکہ شریعت کے معیار پر رشتہ کو ترجیح دیں اور نکاح کو آسان بنائیں تاکہ زنا مشکل ہوجائے۔

یا اللّٰه ہمارے ایمان کی حفاظت فرما۔
ہمیں دین کی سمجھ عطا فرما۔ ہمیں گمراہی کے راستے سے بچا۔ آمین۔

منقبت حضور غوث اعظم رضی اللہ عنہ،،،، مجھے غوث اعظم کی نسبت ملی ہے،، از. قاری آفتاب عالم صفدر کیموری صاحب

خدا کی مجھے ایک نعمت ملی ہے
مجھے مصطفے کی عنایت ملی ہے
میں اپنے مقدر پہ قربان جاؤں
مجھے غوث اعظم کی نسبت ملی ہے

غم و رنج میں جب بھی ان کو پکارا
ملا پھر مجھے مشکلوں میں سہارا
پریشانیوں میں بھی میں مسکراؤں
مجھے غوث اعظم کی نسبت ملی ہے

سجی ہےمرےدل میں الفت انہیں کی
عقیدت انہیں کی ہے چاہت انہیں کی
شب و روز نغمہ یہ میں گنگناؤں
مجھے غوث اعظم کی نسبت ملی ہے

تصور میں بغداد جایا کروں میں
کلی دل کی یوں ہی کھلایاکروں میں
درغوث پر ایسے ہی جاؤں آؤں
مجھے غوث اعظم کی نسبت ملی ہے

کروں غوث اعظم کی مدح و ثنا اور
مراتب لکھوں ان کے صبح و مسا اور
نصیب اپنا سویا ہوا جگمگاؤں
مجھےغوث اعظم کی نسبت ملی ہے

خبر گیری کرتے ہیں وہ خوب میری
کہوں المدد تو کریں دستگیری
زمانے کو میں جھوم کر یہ بتاؤں
مجھےغوث اعظم کی نسبت ملی ہے

مجھے آفتاب ان کی نسبت ملی جب
مرے گھر سے ہر ایک آفت ٹلی تب
رسول خدا کا نہ کیوں فیض پاؤں
مجھےغوث اعظم کی نسبت ملی ہے

از ـ محمد آفتاب عالم صفدر کیموری

نعتِ رسول ﷺ:-از آفتاب عالم صفدر کیموری صاحب قبلہ

ذکر کیجے حضور کا پل پل

برسےگی رحمتِ خدا پل پل

نعت سرکار گنگنا پل پل

بارش نور میں نہا پل پل

جس کےدل میں ہےعشق ان کا، اسے

یاد آتے ہیں مصطفے پل پل

دیکھتا رہتا ہوں میں حسرت سے

شہر طیبہ کا راستہ پل پل

طیبہ اک دن بلائیں گےآقا.

کہتا رہتاہے دل مرا پل پل

ہوگی جب حاضری مدینے میں،،

زیست کا ہوگا خوشنما پل پل

نعت کی مجھ پہ ایسی برکت ہے

زیست کا ہے ہرا بھرا پل پل

عالمِ نفسی نفسی میں صفدر!

ہوگا ان کا ہی آسرا پل پل

از ـ ابوسارہ محمد آفتاب عالم صفدر کیموری بہار

کورونا: تعلیم سے محروم بچوں کا حکومت خیال کرے: تنظیم فارغین امجدیہ2010؁ء

ماضی میں ہم نے اس سے قبل بھی وائرس کی وبا کے خطرات دیکھے ہیں۔تاہم کبھی کسی نئے وائرس کی وجہ سے دنیا کا نظام اس طرح معطل ہوکر نہیں رہ گیا تھا۔ اتر پردیش میں بچوں کی تعلیم کو مؤثر طور پر جاری رکھنے کے لیے تنظیم فارغین امجدیہ2010؁ء کے متحرک فعال علماۓ کرام نے حکام پر زور دیا ہے کہ تعلیم گا ہوں کو محفوظ انداز میں کھلا رہنا چاہیے۔
کورونا وائرس کے باعث بندش کے دوران حکومتوں اور تعلیمی اداروں سمیت دگر شراکت داروں نے آن لائن تعلیم کو وسعت دینے کی کوشش کی ہے۔ آن لائن تعلیم کو وسعت دینے کے اقدامات کے باوجود اترپردیش سمیت دگر ریاستوں میں بچوں کے اندر سیکھنے کے مواقع میں تشویش ناک حد تک عدم مساوات پیدا ہوگئی ہے۔ بھارت میں کورونا وائرس وبا کی وجہ سے بچوں کی تعلیم پر مرتب ہونے والے اثرات کے تحقیقی رپورٹ میں اس بات کا انکشاف کیا گیا ہے۔ کہ کورونا وائرس کے بڑھتے ہوۓکیسز کی وجہ سے تمام سرکاری اور نجی اسکول کو مکمل طور سے 31/جنوری تک بند رکھا جاۓ گا۔ کورونا وائرس کی وبا کے دوران اتر پردیش سمیت دگر ممالک میں اسکولوں کے بار بار بندش کی وجہ سے ایک اندازے کے مطابق 25/کروڈ 30/لاکھ بچوں کی تعلیم متاثر ہوئی ہے۔ رپورٹ کے مطابق بھارت میں 23/فی صد بچے ایسے ہیں جن کے پاس آن لائن تعلیم حاصل کرنے کے لیے انٹرنیٹ ڈیوائس کی سہولت موجود نہیں ہے۔ مذکورہ رپورٹ میں کہا گیا ہے تعلیمی اداروں کی بندش سے غریب اور محروم خاندانوں کے بچے سب سے زیادہ متاثر ہوۓ ہیں۔ کیوں کہ ان میں سے کئی خاندانوں کے لیے ایک انٹرنیٹ ڈیوائس کا حصول بھی مشکل ہے۔ تو ایسی صورت میں غریب و محروم خاندان کے بچے کیسے تعلیم حاصل کر پائیں گے۔ لہذا تنظیم فارغین امجدیہ2010؁ء کے ماہر تعلیم علماۓ کرام نے حکومت ہند کو یہ یقین دہانی کراکے تعلیم گاہوں کو محفوظ انداز میں کھلا رہنے کی اپیل کی ہے۔
رپورٹر: آصف جمیل امجدی

ہم جشن یوم جمہوریہ کیوں مناتے ہیں؟از:محمّدشمیم احمدنوری مصباحی خادم:دارالعلوم انوارِ مصطفیٰ سہلاؤشریف،باڑمیر(راجستھان

)

بلاشبہ وطن عزیز [ہندوستان] کی تاریخ میں دو دن بہت ہی اہمیت کے حامل ہیں, ایک 15اگست [یوم آزادی]جس دن ہمارا ملک انگریزوں کی غلامی سے آزادہوا, دوسرا 26جنوری[جسے یوم جمہوریہ یا ری پبلک ڈے Republic Day یا گن تنتر دِوس کہا جاتا ہے] جس دن ملک جمہوری ہوا, یعنی اپنےملک میں اپنےلوگوں پراپناقانون لاگو ہوا-
آزادہندوستان کااپنادستور بنانے کیلئےڈاکٹر بهیم راؤ امبیڈکرکی صدارت میں29اگست 1947کو سات رکنی کمیٹی تشکیل دی گئی تھی، جس کوملک کاموجوده دستورمرتب کرنےمیں 2سال 11ماه اور18دن لگے, دستورسازاسمبلی کےمختلف اجلاس میں اس نئےدستورکی ہراک شق پر کهلی بحث وتمحیص ہوئی،پھر 26 نومبر1949کواسےقبول کرلیاگیا, اور24جنوری 1950 کوایک مختصر اجلاس میں تمام ارکان نےنئےدستور پردستخط کیا, اور 26جنوری 1950 کو اس نئےقانون کولاگوکرکے پہلا “یوم جمہوریہ” منایاگیا،[اسی دستور اور آئین کی بنیاد پر اپنے ملک کو جمہوری ملک کہاجاتاہے]اب ہرسال تمام باشندگانِ ہند وبرادرانِ وطن 26جنوری کو “یوم جمہوریہ “کے طور پرپورے جوش وخروش اور دھوم دھام کے ساتھ مناتے ہیں اور15اگست 1947کی طرح یہ تاریخ بهی ملک کا قومی اوریادگاری دن بن گئی-
26جنوری کوجشن کےطور پہ کیوں مناتے ہیں؟ توآئیے تاریخ کےاوراق کامشاہدہ کرتےچلیں, جشن کایہ دن ہندوستانیوں کو یونہی نہیں ملا,اس کیلئےبڑی بڑی قربانیاں دینی پڑیں,لاکھوں جانوں کےنذرانےپیش کرنے پڑے,تب جاکر 26جنوری کو جشن منانے کایہ زریں موقع ہندوستانیوں کو نصیب ہوا, انگریزوں کاپہلاقافلہ1601 میں دورجہانگیری میں ہی ہندوستان آیاتها ,اس حساب سے ہندوستان سےانگریزوں کاانخلاء 1947میں 346سال بعد ہوا, اس دوران ظلم وبربریت کی ایک طویل داستان لکھی گئ جس کاہرصفحہ ہندوستانیوں کےخون سے لالہ زارہے، جذبۂ آزادی سےسرشار اورسرپرکفن باندھ کروطن عزیز اوراپنی تہذیب وتمدن کی بقاء کیلئے بےخطر آتش افرنگی میں کودنے والوں میں جہاں ہمارے دیگر برادارنِ وطن نے حصہ لیا وہیں مسلمان کسی سے پیچھے نہیں رہے بلکہ مسلمان سب سے پیش پیش تھے,جنگ آزادی میں مسلمانوں کی قربانیاں اگر الگ کردی جائیں توہندوستان کی آزادی کی تاریخ کبھی مکمل ہی نہ ہوگی،بہرحال 26جنوری 1950 میں ہندوستان نے اپنے لیے جو دستور مقرر کیا اس کے آغاز میں ہی ایک بہت ہی خوبصورت جملہ لکھا گیا ہے”ہم ہندوستانی عوام تجویز کرتے ہیں کہ انڈیا ایک آزاد، سماجوادی، جمہوری ہندوستان کی حیثیت سے وجود میں لایا جائے جس میں تمام شہریوں کے لئے سماجی، معاشی،سیاسی،انصاف،آزادئِ خیال، اظہاررائے،آزادئِ عقیدہ ومذہب وعبادات،مواقع اور معیار کی برابری، انفرادی تشخص اور احترام کو یقینی بنایا جائے اور ملک کی سالمیت ویکجہتی کو قائم ودائم رکھا جائے گا”
یقیناً دستور ہند کی سب سے اہم اور خاص بات یہ ہے کہ اس میں ملک کے تمام مذاہب و نظریات رکھنے والوں کو اس بات کی مکمل آزادی حاصل ہے کہ وہ ملک میں اپنے اپنے مذہب پر عمل کر سکتے ہیں، اپنےجائز افکار و نظریات کی تبلیغ وترسیل کر سکتے ہیں، اپنے تشخصات و روایات کے ساتھ ملک میں اطمینان و سکون کے ساتھ زندگی گزار سکتے ہیں، اپنی زبان، تہذیب، کلچر و ثقافت پر عمل کرنے میں مکمل آزاد ہیں،کسی کو بھی یہ حق حاصل نہیں کہ وہ کسی کے مذہب، اس کی تہذیب، زبان اور ثقافت سے چھیڑچھاڑ کرے، اس کے مذہبی مقامات کو نشانہ بنائے یا اس کے پرسنل لا سے چھیڑچھاڑ کرے،اس اعتبار سے “ھندوستانی جمھوری نظام” ایک بہترین نظام ہے، اس میں مختلف افکار و خیالات اور تہذیب و تمدن کے لوگ بستے ہیں،ہندوستان ایک ایساجمہوری ملک ہے جہاں مختلف زبان، مذاہب،ذات،رنگ ونسل اور رسم ورواج کے چاہنے والے رہتے ہیں،صدیوں سے یہاں گنگا جمنی تہذیب وتمدن کی فضا رچی بسی ہے،دوستی، محبّت،بھائی چارگی، یکجہتی،مساوات واخوت یہاں کی خاص پہچان ہے، 26 جنوری کو اسی دستور و آئین کی تائید میں اور کثیر المذاہب ملک ہونے کے باوجود باہمی یکجہتی اور میل جول کے اس عظیم ملک ہندوستان کی جمہوریت پر ناز کرنے کے لیے “جشن یوم جمہوریہ” مناکر ملک کی آزادی کی خاطر اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کرنے والے جانبازوں اور ملک کے آئین کے بانی و مرتبین کو بہترین خراج عقیدت پیش کی جاتی ہے،اور اس دن پورے ملک میں ہر جگہ سرکاری چھٹی رہتی ہے اور تعلیم گاہوں اور سرکاری اداروں میں “جشن یوم جمہوریہ” کا پروگرام منعقد کی جاتی ہے،تمام صوبوں میں مرکزی مقامات پر تقاریب کاانعقاد کیاجاتاہے،اور ساتھ ہی ساتھ ثقافتی پروگرام کا بھی اہتمام ہوتاہے،لوگ جوق درجوق گھروں سے باہر آجاتے ہیں،مدارس اسلامیہ،اسکول، کالج،چوراہوں، سرکاری ونجی عمارتوں پرقومی پرچم لہرائے جاتے ہیں،رہائشی علاقوں،ثقافتی اداروں اور معاشرتی انجمنوں کے زیراہتمام تفریحی پروگرام تو انتہائی شاندار طریقے سے منائے جاتے ہیں،مساجد ومدارس میں ملک وقوم کی ترقی وخوشحالی اور آپسی بھائی چارہ، نیز بھٹکے ہوئے لوگوں کو راہِ راست پر آنے کی توفیق اور سلامتی کے لیے دعائیں مانگی جاتی ہیں، حبّ الوطنی پر مشتمل ترانے پڑھےجاتے ہیں، راشٹریہ گیت گایا جاتا ہے،سیکولرازم کے عنوان پر بیانات ہوتے ہیں،اور ہمارے مفکرین ودانشوران اس بات پر زور دیتے ہیں کہ ہندوستان میں جمہوریت کی بقا رہنی چاہیے، ہر ہندوستانی کو اپنے مذہب اور عقیدہ کی مکمل آزادی ہونی چاہئے، سب کو رہنے اور کھانے پینے کا مکمل اختیار ہونا چاہیے، ہر ہندوستانی کو ہندوستان کا ایک شہری ہونے کے ناطے جو سہولیات ملنی چاہیے اسے ان کو حکومتی سطح پر دیاجاناچاہییے،خصوصاً اقلیتوں کے ساتھ انصاف، ہندو مسلم سکھ عیسائی اور ہندوستان کے تمام دوسرے مذاہب کے ماننے والوں کو آپس میں اتحاد و اتفاق اور اخوت و بھائی چارگی کے ساتھ رہنا چاہیے، ملک کی حفاظت اور اِس کی ترقی کے لیے سبھی بردران وطن کو بھرپور کوشش کرنی چاہیے-ہم سبھی لوگوں کو ملک کے آئین ودستور کا پاس ولحاظ رکھنا چاہییے،مگر پچھلے کچھ سالوں سے ملک میں ایک خاص فکر کے حاملین برادران وطن نے جس طرح ملک کے دستور کی دھجیاں اڑائی ہیں، اقلیتوں بالخصوص مسلمانوں کے مذہبی مقامات کو نشانہ بنایا ہے، فرقہ پرستی کو فروغ دیا ہے، مذہب اور دھرم کے نام پر جو سیاسی کھیل کھیلا ہے، فرقہ وارانہ فسادات میں جس طرح حکومت کی پشت پناہی میں مسلمانوں کا قتل عام کیا ہے اور اب مسلمانوں کے مذہبی مسائل اور عائلی قوانین میں جس طرح مداخلت کرتے ہوئے اسے تبدیل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں اس سے معلوم ہوتا ہے کہ ملک میں اب باقاعدہ جمہوریت ہی باقی نہ رہی، ایک خاص فکر کے حاملین نے ملک کی جمہوریت کو اپنے خونی پنجوں سے جس طرح دبوچ لیا ہے اور آئے دن ملک کے جمہوری تقدس کو پامال کر رہے ہیں اس سے صاف معلوم ہو رہا ہے کہ ان کے ارادے نیک نہیں، یہ جمہوریت کے دشمن ہیں، آئین کے قاتل ہیں، دستور کے لٹیرے ہیں، یہ لوگ بڑی بے باکی کے ساتھ اپنے منصوبوں کو کامیاب بنانے میں شب و روز تگ و دو کر رہے ہیں، حکومت جو جمہوریت کی محافظ ہے وہ بھی جمہوریت کے ان لٹیروں کا ساتھ دے رہی ہے ایسے میں ضروری ہے کہ تمام برادران وطن مل کر ان چند فرقہ پرستوں کے خلاف اور فرقہ پرستوں کا ساتھ دینے والی حکومت کے خلاف جمہوریت کی بقا اور آئین کی سلامتی کے لیے متحدہوکرانہیں ان کے منصوبوں میں ناکام بنائیں، تاکہ ہم فخر سے کہہ سکیں کہ ہم دنیا کے سب سے بڑے جمہوری ملک میں رہتے ہیں، اور یوم جمہوریہ مناتے ہوئے خوشی خوب خوب خوشی ومسرت محسوس کریں-
اس بار ہم 73 واں یوم جمہوریہ منارہے ہیں، اور ساتھ ہی ساتھ پورے ملک کے مدارس،کالجز،اسکول ودفاتر میں بھی موجودہ وبائی بیماری کے مدّنظر حفاظتی اقدامات کے ساتھ”جشن یوم جمہوریہ”منایا جائے گا،کاش کہ اس جشن زریں کے موقع پر حکمرانوں کے ذریعہ آئین کے تحفظ اور جمہوری اقدار کی بقا کو مقدم رکھنے کا حلف لیا جاتا اور اس پر عمل بھی کیا جاتا، نفرت بھرے ماحول کو امن وآشتی،اخوت و بھائی چارہ سے بدلنے کی بات کی جاتی، مساویانہ آئینی حقوق کو یقینی بنایا جاتا، ملک دشمن عناصر کو کیفر کردار تک پہنچانے میں امتیاز نہیں برتا جاتا، گنگا جمنی تہذیب کی لاج رکھی جاتی، اقلیتوں خصوصاً مسلمانوں کے خلاف آگ اگلنے والی زبانوں پرلگام لگایا جاتا گئورکچھا کے نام پر بے قصور مسلمانوں کو موت کے گھاٹ اتارنے والوں کو طوق سلاسل پہنایا جاتا،لوجہاد اور گھر واپسی کے نام پر آتنک کاراج قائم کرنے والوں کو تختۂ دار تک پہنچایا جاتا، “سب کا ساتھ سب کا وکاس” کے نعرہ کو سب کے لئے عملی جامہ پہنایا جاتا، تو “یوم جمہوریہ” کے معماروں کےلیے یہی سچی خراج عقیدت ہوتی!

नाते नबी सल्लल्लाहु अलैहि वसल्लम:- कारी तौसीफ रजा तहसीनी

मलजा नज़र में और वह मावा नज़र में है
यानी कि सब रसूलों का दूल्हा नज़र में है

दुनिया नज़र में और न उक़बा नज़र में है
हर लम्हा हर एक आन मदीना नज़र में है

दुनिया का हुसन मेरी निगाहों में हेच है
हुसने रसूले पाक समाया नज़र में है

फज़ले खुदा से आंखें हैं रौशन इसी लिए
मुख़तारे कायनात का जलवा नज़र में है

इश्क़े रसूले पाक में कूऐ रसूल को
परवाज़ फिक्र करती है तैबा नज़र में है

हम को नसीब ग़ौस का मुर्गा है रोज़ो शब
नजदी वहाबीओं की तो कौआ नज़र में है

महसूस हो रहा है बदन का महकना क्यूँ ?
तौसीफ शहरे तैबा का कांटा नज़र में है

نعتِ پاکِ شہہِ ابرارﷺ :- ملجا نظر میں اور وہ ماویٰ نظر میں ہے

یکجا کاوش برائے بزم غوث الوریٰ

نعت رسول مقبول صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم

ملجا نظر میں اور وہ ماوا نظر میں ہے
یعنی کہ سب رسولوں کا دولھا نظرمیں ہے

دنیا نظر میں اور نہ عقبیٰ نظر میں ہے
ہر لمحہ ہر اک آن مدینہ نظر میں ہے

دنیا کا حسن میری نگاہوں میں ہیچ ہے
حسنِ رسولِ پاک سمایا نظر میں ہے

فضلِ خداسےآنکھیں ہیں روشن اسی لیے
“مختارِ کائنات کا جلوہ نظر میں ہے”

عشق رسول پاک میں کوئے رسول کو
پرواز فکر کرتی ہے طیبہ نظر میں ہے

ہم کو نصیب غوث کا مرغا ہے روز و شب
نجدی وہابیوں کی تو کوَّا نظر میں ہے

محسوس ہو رہا ہے بدن کا مہکنا کیوں؟
توصیف شہر طیبہ کا کانٹا نظر میں ہے

        نتیجۂ فکر

سالک محمد توصیف رضا
تحسینی پیلی بھیتی

نعتِ رسول ﷺ :- از قلم قاری توصیف رضا تحسینی صاحب قبلہ

نظارے جھومتے ہیں اور ستارے جگماتے ہیں
جناب آمنا کے گھر نبی تشریف لاتے ہیں

رہا کرتی ہیں ہر دم برکتیں ان کے مکانوں میں
جو دل سے مصطفی کے نام کی محفل سجاتے ہیں

نمازیں کم کرانے کے لیے موسی کے کہنے پر
حضور رب شہ دیں بار بار آتے ہیں

یزیدی بھیڑیے ہیبت زدہ ہیں دیکھ کر سارے
الم ہاتھوں میں لے کر حضرت عباس آتے ہیں

نسیم شہر طیبہ کاش آ کر مجھ سے یہ کہدے
چلو توصیف تحسینی تمہیں آقا بلاتے ہیں

امجدی ڈائری: معاشرہ کی تعمیر میں دینی مدارس کا کردار {موجِ فکر} تحریر:– آصف جمیل امجدی 9161943293

قارئینِ کرام ہم اس موضوع کے دو حصے کرکے آپ کے مشام جاں کو معطر کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
پہلا حصہ یہ ہے کہ معاشرہ کی اصلاح میں دینی مدارس کا کیا کردار رہا ہے،اور کس طرح اس نے سماج کی تعمیر کا کام انجام دیا ہے؟ گویا یہ ماضی کا جائزہ ہے ۔
موضوع کا دوسرا حصہ یہ ہے کہ معاشرہ کی اصلاح میں دینی مدارس سے کس رول کی توقع کی جاسکتی ہے؟ یعنی اس کام میں یہ مدارس کیا کردار ادا کر سکتے ہیں؟
جہاں تک موضوع کے پہلے حصے کا تعلق ہے،یہ ایک ایسی درخشندہ اور تابناک تفصیل ہے۔ جس کی ضیا بار کرنوں سے تاریخ کا ہر صفحہ منور ہے۔ اہلِ نظر اگاہ ہیں کہ مدارس کی تاریخ اس صفہ نبوی سے جڑی ہوئی ہے جہاں سے دنیا کوانسانیت کا درس ملا تھا۔ دنیا کےتمام مدارس اسی سر چشمہ سے فیض یاب ہوتے ہیں اور اسی کے پیغام کو عام کرتے ہیں۔ مدارسِ دینیہ نہ صرف تعلیم گاہ ہیں،بلکہ تربیت کی بھی آماجگاہ ہیں ۔ چنانچہ تاریخ پر سر سری نظر ہی یہ بتا سکتی ہے کہ مدارسِ اسلامیہ سے کیسےکیسے مردانِ کار نکلے اور انھوں نے سماج کو کن خوبیوں سے آراستہ کیا۔ ماضی کے دریچے سے اگر دیکھا جاۓ تو زندگی کے میدان اور مختلف علوم و فنون کے لیے ماہرین انھیں دینی مدارس سے فراہم ہوۓ۔ مدارس نے ہی قوم کو بڑے بڑے اطباء، ماہر انجینئر، صنعت کار اور فن حرب کے ماہرین دیے۔ اداباء، شعراءاور خطباء یہیں سے نکلے اور دینی علوم کےماہرین کا توکیا کہنا،وہ تو دینی مدارس کی پہچان ہوتے ہیں۔ محدثین، مفسرین، فقہاء اور تمام علوم آلیہ و علوم عالیہ کے ماہرین دینی مدارس کے فیضان ہیں۔
اگر ہم اپنے ملک کی تاریخ پر نظر ڈالیں تو یہاں بھی منظر نامہ اس سےعلاحدہ نہیں۔ عہدِ سلطنت سے لے کر مغلیہ دور تک اور پھر برطانوی سلطنت کے زمانہ تک یہی دینی مدارس وہ مراکز تھے، جہاں سے سماج کی ہر ضرورت پوری ہو رہی تھی، اس کے مردان کار تیار ہو رہے تھے۔ تعلیم گاہوں کے مسند نشینوں سے لے کر اخلاق و کردار کے معلمین تک، تاجروں اور صنعت کاروں سے لے کر زرعت اور دست کاری کے محنت کشوں تک، غرض سماج کے تمام قسم کے لوگ انہیں مدارس سے تیار ہوکر نکل رہے تھے اور یہ بات توظاہر ہے کہ کوئی بھی سماج انہیں افراد سے تشکیل پاتا ہے۔ اگر یہاں افراد صالح تھے تو لازمًا سماج صالح بن رہا تھا اور سماج کی صالح تشکیل کا سہرا ان دینی مدارس کے سر بندھ رہا تھا، جہاں سے یہ افراد سماج کو فراہم ہورہے تھے۔
ملک کی آزادی اور آزادی کے بعد سماج کو صحیح ڈگر پر جاری رکھنے میں بھی دینی مدارس کا رول بہت نمایاں ہے۔ اس سلسلے میں سب سے اہم بات یہ ہے کہ ملک کی تقسیم کے بعد جب یہاں مسلم حکومت باقی نہیں رہی اور یہاں کی مسلم عوام ایک سیکولر نظام حکومت کے تحت آگیے، ان کے دین و ایمان، اسلامی احکام، اس کے شعائر اور اسلامی شناخت کے تحفظ کا بیڑا ان دینی مدارس ہی نے اٹھایا۔ آج یہ حقیقت ایک زندہ مثال کی شکل میں موجود ہے کہ یہاں جو کچھ اسلام کی شادابی اور اس کی رونق موجود ہے وہ ان مدارس اور اس کے فضلاء کی کاوشوں کی مرہونِ منت ہے۔ مدارس اور اس کے فضلاء نے مسلم عوام الناس کا رشتہ اپنے دین سے باقی رکھا۔ سماج کی اصلاح کے پروگرام میں مساجد میں جمعہ کے خطبات اور مختلف تقاریب کے موقع پر اصلاحی تقاریر کا بڑا حصہ ہے اور یہ بزم بھی مدارس اور اس کےنونہالوں سے آراستہ رہتی ہے۔
ماضی میں معاشرہ کی تشکیل اور اس کی اصلاح میں مدارس دینیہ کے رول پر بہت تفصیل سے روشنی ڈالی جاسکتی ہے۔ اس باب میں بہت کچھ کہنے کے سامان موجود ہیں، لیکن اس مختصر تحریر میں ہم اس پہلو کو انہی اشاروں پر بس کرتے ہوۓ دوسرے پہلو کی طرف اتے ہیں۔ کہ ماضی کو دیکھنے اور اس کا جائزہ لینے کے ساتھ مستقبل کی تعمیر کی منصوبہ بندی بھی ضروری ہے۔
اگر ہم اس پہلو پر غور کریں کہ زمانہ کس رخ پر گامزن ہےاور فساد بگاڑ کن کن راہوں سے ارہا ہے، اصلاح و تربیت کے لیے آج کن عناصر کی ضرورت ہے، سماج کو کس طرح کی ضرورت در پیش ہے، معاشرہ میں بسنے والوں کو کیسے مسائل اور مشکلات کا سامنا ہے، اس صورتِ حال میں دینی مدارس اور ان کے فضلاء کی ذمہ داری بہت کچھ بڑھ جاتی ہے، سماج کی اصلاح اور معاشرے کی تعمیر کے لیے انہیں ازسرنو اپنی تیاریوں کو منظم کرنے کی ضرورت ہے۔ایسی تیاری جو زمانے کے تقاضے کے مطابق ہو، جو زمانہ کی زبان اور اسلوب سے نہ صرف آگاہ ہو بلکہ اسی زبان میں جواب دینے کی طاقت سے اراستہ بھی ہو۔ آج ضرورت ہوگئی ہے کہ دینی مدارس کے فضلاء دور جدید کے مسائل کو سمجھیں جدید سوالات سے آگاہ ہوں، جدید اصطلاحات سے واقف ہوں ۔ یقینا اس میں کوئی شبہ نہیں کہ انسانیت کے ہر درد کا مداوا اسی دین حنیف میں ہے اور سماج کی تمام تر مشکلات کا علاج بھی اسی دین کی تعلیمات فراہم کرسکتی ہیں۔ لیکن یہ تعلیمات جن افراد امت کے پاس ہیں وہ ان کو آج کے اسلوب میں پیش کرنے کی صلاحیت حاصل کریں تو کہا جاسکےگا کہ دینی م

دارس کے فضلاء معاشرہ کی اصلاح کا وہ کردار ادا کرسکیں گے جو ان کا امتیاز رہا ہے۔
یہاں ایک بات یہ قابل ذکر ہے، کہ اصلاح خواہ سماج کی ہو یا فرد کی، اس کے لیے گفتار کے ساتھ کردار کی کشش لازمی ہوتی ہے۔ دینی مدارس اور ان کےفضلاء جب معاشرہ کی اصلاح کا علم لے کر اٹھیں گے تو ضروری ہوگا کہ وہ اپنے کردار کا بھی ایسا نمونہ پیش کریں، جو خود اصلاحِ معاشرہ کی دعوت ہو۔

نعتِ نبی صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم

. فن شاعری

روتے دل کو ہنسا ابھی کے ابھی
کرلے ذکر خدا ابھی کے ابھی

غم کے بادل ہیں چھائے سرپر تو
نعت پڑھ مسکرا ابھی کےابھی

نام آیا ہے لب پہ آقا کا
پڑھ لےصل علی ابھی کے ابھی

زندگی کا کوئی بھروسہ نہیں
تو خدا کو منا ابھی کے ابھی

ہوگا ہموار چاہیں آقا تو
وصل کا راستہ ابھی کے ابھی

کاش ابھی سامنے ہوں آقا اور
آئے مجھ کو قضا ابھی کے ابھی

کرکے ماں باپ کی رضا حاصل
مژدۂ خلد پا ابھی کے ابھی

آنکھیں برسیں گی مثلِ ساون، کر
ذکر کرب و بلا ابھی کے ابھی

دو صدا ، آئیں گے مدد کے لیے
غوث وخواجہ رضا ابھی کے ابھی

مصطفے سے سلام صفدر کا
جاکےکہہ دےصبا! ابھی کے ابھی

از ـ ابوسارہ محمدآفتاب
عالم صفدر کیموری بہار