قوم بے حس ترے کردار پہ رونا آیا—از:- محمد کہف الوری مصباحی
فضول باتیں کرو نہ ہم سے ہمارا بھیجا پکا ہوا ہے سوال بے جا کی سوزشوں سے دماغ میرا تپا ہوا ہے جہالتوں کی ہے مارا ماری علوم سے اب کسے ہے یاری جدھر بھی دیکھو گلی گلی میں فتن کا میلہ لگا ہوا ہے مخالفت کے شرارے دل میں موافقت کے ڈھکوسلے ہیں لباس … Read more