WebHutt

Designing Your Digital Dreams.

تمباکو نوشی کے مضر اثرات.. از: عبدالقادر [بہرائچ شریف] متعلم:جامعہ احسن البرکات مارہرہ مقدسہ،ایٹہ[یوپی]

تمباکو نوشی کو بھی نشہ آور اشیاء میں شمار کیا جاتا ہے کیونکہ اس کے باقاعدہ استعمال سے عادت پڑ جاتی ہے اور نشہ آور اشیاء اور ادویات کی ایک بڑی خصوصیت یہ ہوتی ہے کہ ان کی عادت چھڑانے سے نہیں چھوٹتی اور اگر زبردستی چھڑایا جاے تو وہ فرد اچھا خاصا مریض بن جاتا ہے لیکِن اطمینان بخش بات یہ ہے کہ یہ حالت ہمیشہ نہیں رہتی اگر ثابت قدمی اور حوصلہ مندی سے کام لیا جائے تو اس لعنت سے جان چھڑائی جاسکتی ہے۔اگرچہ ساری دنیا تمباکو نوشی کے مضر اثرات کومانتی ہے مگر پھر بھی ساری دنیا میں اس کااستعمال دن بدن بڑھ رہا ہے اور استعمال کے طریقے بھی نۓ نۓ آرہے ہیں : سگریٹ نوشی۔ سگار۔گٹکہ۔اورکچھ عرصہ پہلے سے متعارف شیشہ سموکنگ شامل ہے
تمباکو نوشی کے بعد شیشہ سموکنگ کا نشہ ہماری نوجوان نسل میں بڑی تیزی سے پھیل رہا ہے جس نے ناصرف ہماری نوجوان نسل کو بلکہ ملک کو بھی تباہی وبربادی کی طرف ڈھکیل دیا ہےWHOورلڈہیلتھ آرگنائزیشن کے مطابق ہمارے ملک میں شیشہ سموکنگ کے استعمال میں اضافہ ہورہاہے پرانے زمانے میں اسے حقہ کے نام سے موسوم کیا جاتا تھا اور اس کو پینے کی روایت تقریباً تین ہزار سال پرانی ہے اس بات سے تو آپ سب اچھی طرح واقف ہیں کہ حقہ بنانے کے لئے تمباکو نوشی نگوٹین اور ٹارکو استعمال کیا جاتا ہے لیکِن اب اس کی جدید شکل شیشہ میں تمباکو کی بو یعنی Smellزائل کرنےکے لیے سویٹ فلیورزبھی شامل کردیا گیاہے
اگر چہ ہندوستانی قانون کے مطابق 18سال سے کم عمر نوجوانوں کو سگریٹ بیچنا قانوناً جرم ہےمگر اس قانون کا اطلاق آج تک کما حقہ نظر نہیں آیا کم عمر لڑکے اور لڑکیاں ہوٹلوں تفریحی پارکوں کالجوں یونیورسٹیوں اور سڑکوں پر کھلے عام سموکنگ کرتے نظر آتے ہیں اور اکثر نوجوان لڑکے اور لڑکیوں نےاس کو بطور فیشن اختیار کر رکھا ہے کیونکہ وہ اس کے خطرناک نتائج سے لاعلم ہیں یوں تو ہر دور میں تمباکو نوشی کے نقصانات کے بارے حکما اور طبیبوں نے خوب لکھا ہے مگر امام غزالی علیہ الرحمہ نے فرمایا ہے کہ تمباکو نوشی سے ستر(70) سے زیادہ امراض پیدا ہوتے ہیں جن میں دل کی بیماریاں۔سانس سے جڑی تکالیف۔دمہ۔خوراک کی نالی کاکینسر۔نمونیہ۔نومولودبچوں میں سانس کی بیماریاں ۔حاملہ خواتین میں وقت سے پہلے بچے کی پیدائش ۔پھیپھڑؤں کاکینسر۔
جنسی کمزوری ۔اعصابی کمزوری ۔خواتین میں بڑھتا ہوا بانجھ پن ۔اور معدے کے امراض وغیرہ شامل ہیں۔اللہ سے دعا ہے کہ ہم تمام کونشہ آور اشیاء اور ادویات کے استعمال سے محفوظ فرمائے آمین یارب العالمین ۔

بزم اردو اساتذہ کے زیر اہتمام عرس مخدوم سمناں کے موقع پر خصوصی انعامی مقابلہ میں پیش کیا گیا کلام…عقیدت کیش محمد فیض العارفین نوری علیمی شراوستی یوپی

مصرع طرح “عکسِ بدر الدجی ظلِ شمس الضحی مظہرِ مصطفی تارک السلطنت”

◇◇◇~~◇◇◇~~◇◇◇
غیرتِ آسماں ہے علوے نسب بالیقیں آپ کا تارک السلطنت
خرقۂ ذات میں کیسا اعزاز ہے مرحبا مرحبا تارک السلطنت

پرچمِ تمکنت بامِ تقدیر پر اور چرخِ کبودِ شرف گیر پر
خوب شانِ تجدُّد سے لہرائے گا تا بہ روزِ جزا تارک السلطنت

حُلّہ پوشِ کرامات لا ریب ہے، صد عروسِ تصوف کا پازیب ہے
نیز تنویرِ حجلہ گہِ زہد ہے جوہرِ خو ترا تارک السلطنت

حسنِ اخلاق و کردار و گفتار میں صبر و شکر و تحمل میں ایثار میں
“عکسِ بدر الدجی ظلِ شمس الضحی مظہرِ مصطفی تارک السلطنت”

ماہ و خورشید کی جلوہ سامانیاں لعل و یاقوت کی آئنہ بندیاں
ہیچ در ہیچ ہیں گویا بے نور ہیں روکشِ خاکِ پا، تارک السلطنت

جب بڑھا آپ کا نشّۂ بے خودی تَج کے آسائشِ تخت و تاجِ شہی
زیب تن جامۂ بے نیازی کیا بہرِ قربِ خدا تارک السلطنت

حسنِ طاعت سے ہے خوشنما زندگی اور کمالِ تورُّع سے پُر بندگی
تیرے طومارِ سیرت کی ہر سطر ہے حق نما آئنہ تارک السلطنت

پاک ماحول میں پائی ہے پرورش اس لیے ہے نظر میں سلف کی روش
قلبِ نوری میں ہے موج زن ہر گھڑی تیرا بحرِ ولا تارک السلطنت
☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆
عقیدت کیش

محمد فیض العارفین نوری علیمی شراوستی یوپی

۴/ صفر المظفر ۱۴۴۴ ہجری
۲/ ستمبر ۲۰۲۲ عیسوی

بروز : جمعہ

سید خادم رسول عینی ، ایک عاشق رسول شاعر۔۔۔۔۔۔۔از قلم: رفعت کنیز، حیدر آباد

قربان جائیں عاشقان رسول پر
جو بہت ہی خوبصورت اور بہترین کلام کے ذریعہ اپنے شاعرانہ انداز میں عقیدت کے ساتھ اپنی محبت رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو بیان کرتے ہیں۔ بے شک آج بھی اس گلشان جہاں میں حب رسول کے پھول کھلتے رہتے ہیں،
نبی کی محبت میں، آپ کی شان میں گیت گنگناتے رہتے ہیں، آپ کی محبت کا اظہار دلکش انداز میں بیان کرتے ہیں ۔محبت بے انتہا ہوتی ہے جس کی کوئ حد نہیں، ایک عام امّتی اگر رسول سے عشق کر بیٹھے تو پھر دونوں جہاں میں اسکا مقام بڑھ جاتا ہے۔

 جب صحابہء کرام  آپ سے محبت کرتے تھے تو آپ پر جان قربان کیا کرتے تھے۔ تمام صحابہ نے اپنے عشق کا اظہار اس انداز میں کیا کہ آپ کی خاطر ، اسلام کی خاطر اپنی جان تک قربان کرنے کو تیار رہتے تھے۔جو  شخص آپ کے خلاف جاتا تو اس سے جنگ کا اعلان کیا کرتے تھے۔ اس دور میں تمام صحابہ آپ کی محبت میں دل وجان فدا کرتے تھے، اپنا سب کچھ قربان کیا کرتے تھے اور اج کے اس دور میں صحابہ تو نہیں ہیں لیکن ایسے عاشقان  رسول ہیں جو آپ کی محبت میں، آپ کی عظمت میں، آپ کی مدح میں اپنے جذبہء عشق سے کئ لوگوں کے دلوں کو فتح کرتے ہیں اور اپنی اس محبت کو اس انداز میں بیان کرتے ہیں ک جو پڑھنے اور سننے لگے گا وہ بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم  سے محبت کر بیٹھے گا ۔جس دل میں آپ کی محبت ہوگی وہ دل  پاک ہوتا ہے اور وہ دل خوبصورت کے ساتھ ساتھ بہت خاص ہوتا ہے۔

  نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو بھی اپنی امت سے بہت محبت تھی ہر وقت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنی امت کے لیے رویا کرتے تھے ،امت کی بہت فکر کرتے تھے اور بہت دعائیں کیا کرتے  تھے اور میرے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی دعا جس امت کے حق میں قبول ہوئ ہو وہ امّتی بہت خاص ہوتا ہے اور ایسے ہی ایک  خاص امتی "نازش ملت , سلطان الشعرا , معلم الشعرا سیّدخادم رسول عینی " ہیں جو اپنے جذبات کو ، اپنے احساسات کو ،اپنی محبت رسول کو  اپنے خوب صورت شاعرانہ انداز میں بیان کرتے ہیں ۔ان کے اس جذبہء عشق نے  لاکھوں دلوں کو  فتح کیا ہے۔ عینی نے اپنے کلام میں نہ صرف اپنے عشق کا اظہار کیاہے  بلکہ نبی کی عظمت ،نبی کا مقام، نبی کی حقیقت، نبی کی صداقت نبی کی سیرت  کو بھی  بیان کیا ہے۔

خادم رسول عینی صاحب کے بہت سارے کلام ایسے ہیں جو عشق رسول کے جذبہ سے سرشار ہیں ، جن میں آپ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی عظمت کو بہترین انداز میں بیان کیا ہے۔
آپ کا ایک شعر یوں ہے:
حق راستہ دکھانے کو تشریف لائے وہ
گمراہیوں کے آگئے اب بے بسی کے دن
واقعی “سیّد خادم رسول عینی” نے درست فرمایا کہ جب نبی صلی اللہ علیہ دنیا میں تشریف لاے حق جیت گیا اور باطل ہار گیا اور جو گمراہ تھے ان کا کوئ بس نہ چلا .جب آپ نے مکّہ کو فتح کیا سارے بتوں کو گرا دیا گیا جن کو خدا تصور کیا جاتا تھا اور ان بتوں کے پوجنے والوں کو دعوت اسلام کی طرف بلایا ، خداکی وحدانیت کی تعلیم دی اور اس کام میں صحابہ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا بہت ساتھ دیا ۔ تمام صحابہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت میں ہمیشہ پیش رو تھے۔
الحمد لللہ آپ کی محبت میں صحابہ نے جو قربانیاں دی ہیں اسی کی وجہ سے آج ہمارا اسلام زندہ ہے اور ہمارا دین سلامت ہے۔ آج صحابہ کادور نہیں ہے لیکن اس دور کا عکس، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت کا احساس آج بھی بہت سارے لوگوں کے دلوں میں زندہ ہے ۔ جو اشخاص آپ سے محبت کرتے ہیں وہ اج کےدور کے چمکتے ستارے ہیں ، جو عشق رسول کے ساتھ ساتھ نبی کی عظمت کو ساری دنیا میں روشن کروانا چاہتے ہیں ۔آج کے اس دور میں صحابہ تو نہیں ہیں
اور نہ انکی تلوار ہے اور نہ کوئ تیر ہے لیکن آج کے دور میں وہ امتی ہیں جن کا دل عشق رسول کے جذبہ سے معمور ہے، وہ اپنے عشق کو شاعرانہ انداز میں کلام کے ذریعہ اپنی محبت اور وفا کا اظہار کرتے ہیں ،اپنے دین اور اسلام کی تبلیغ کرتے ہیں ۔

خادم رسول عینی کا ایک اور شعر جس میں انھوں نے اپنی محبت نبی کا اظہار کرتے ہیں یوں ہے:
طیبہ کی سرزمیں پہ میری حاضری کے دن
سب سے حسین ترین تھے وہ دل کشی کے دن
اس شعر سے انکا عشق عیاں اور نمایاں ہے ۔

  خادم رسول عینی  نے صرف اشعار  نہیں کہے بلکہ آپ نے عشق رسول کے ساتھ ساتھ خادم رسول  ہونے کا حق ادا کرنے کی کوشش کی .آپ نے لاکھوں دلوں کو جیت کر ان کے دلوں میں عشق رسول کو فزوں تر کیا  ہے ۔اس لئے "خادم رسول عینی" کو چرخ عشق رسول کا روشن ستارہ کا لقب دینا‌  چاہئے۔ عینی تقدیسی محفلوں‌ کی شان بڑھاتے ہیں ، عینی پر اللہ کا خاص کرم ہے ۔

خادم رسول عینی کی کتاب ” رحمت نور کی برکھا”کو ہم پڑھیں تو ہمیں علم ہو ہوجائےگا کہ عینی کس قدر نبی کے عشق میں ڈوب کر اپنی محبت اور عقیدت کو بیان کررہے ہیں۔
اور ساتھ ساتھ انکی پاکیزہ سوچ اورنفاست کا اندازہ ہوتا ہے۔ اللہ تعالیٰ سے دعا ہے ک خادم رسول عینی کی طرح ہم سب کے دلوں میں عشق رسول کا جذبہ ہو
اور عاشقان رسول میں ہمارا بھی نام ہو۔

کیسے شکر ادا کروں خادم رسول عینی کا کہ ہم سبھوں کے لیےایک ادنیٰ سی کنیز تھے مگر “خادم رسول عینی” نے ہمیں وہ مقام دیا ہے جو بڑی سی بڑی ہستیوں کو بھی نہیں ملا ، ہمیں اپنے دائرہء حلقہ میں لیکر غؤث العظم دستگیر علیہ الرحمہ سے وابسطہ کر کے ہمارے لیے ان راہوں کو ہموار کیا ہے کہ جن پر چل کر ہم اپنی آخرت بہتر بنا سکیں ۔

اج کے اس دور میں ہر انسان تنہا ہے، سب کے ہوتے ہوے بھی اکیلا ہے، گمراہیوں کا شکار ہے، اس کی رہنمائ کرنے والا کوئ نہیں ہے۔ لیکن خوش نصیب ہیں وہ لوگ جن کی زندگی میں “خادم رسول عینی” بہترین شخص شامل ہیں ان سب پر اللہ تعالیٰ کا بہت بڑا کرم ہے.

   خادم رسول عینی جو  ایک عظیم شاعر ہیں ہزاروں نعتین آپ نے لکھی ہیں آپ کے اخلاق ،آپ کے حسن سلوک، آپ کی سادگی نے ہزاروں دلوں کو جیت لیا ہے۔ کاش میرے پاس مزید الفاظ ہوتے جو ہم عینی  کے لیے کہہ سکتے ، ہاں اتنا ضرور کہینگے ک آپ وہ مشعل ہیں جس نے  ہزاروں زندگیوں کو روشن کیا ہے ، ہزاروں دلوں میں ایمان اور اسلام کی محبت کو بڑھایا ہے ۔نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی شان اقدس میں عینی نے جو کلام کہے ہیں اور نعتیں لکھی ہیں ، ان سب نے  ہزاروں کی سوچ اور ہزاروں کے  دلوں کو بہتر بنا  دیا ہے ۔آپ آج  کے دور کے عظیم شاعر ہیں اور ساتھ ساتھ ملت اسلامیہ کے رہنما بھی ہیں اور ہم خود کو خوش نصیب سمجھتے ہیں ک ہم آپ سے وابسطہ ہیں ۔

اللہ تعالیٰ سے دعا ہے ک ہمارے روحانی رشتہ کو سلامت رکھے اور مجھے راہ حق پر شریعت اسلام کا پابند بناے اور خادم رسول عینی کے عزیزوں میں مجھے بھی رکھے آمین ثم آمین بجاہ سید المرسلین صلی اللہ علیہ وسلم

کمال یہ ہے کہ مجھ میں کوئی کمال نہیں… ( آل انڈیا مسابقۂ خطاب میں دوسری پوزیشن حاصل کرنے پر ایک تاثراتی اور تشکراتی تحریر)از قلم: محمد ہاشم برکاتی متعلم: جامعہ احسن البرکات مارہرہ مقدسہ،ضلع:ایٹہ(یوپی)

آج سے تقریباً ڈیڑھ ماہ قبل، جامعہ امیر العلوم مینائیہ گونڈہ سے آل انڈیا مقابلۂ قرأت اور مسابقۂ خطاب کا ایک اشتہار شائع ہوا، جس کو میرے ہم جماعت اور عزیز دوست فخر عالم بھائی نے ہماری جماعت کے واٹس ایپ گروپ میں ارسال کیا اور خصوصاً مجھ احقر کی توجہ اس کی طرف مبذول کرائی اور اپنے مخصوص لہجے میں کہا کہ : “ہاشم حصہ لے لو”۔
چونکہ اس وقت ہم تمام طالبان علوم نبویہ عید قرباں کی تعطیل کی وجہ سے اپنے اپنےگھروں پہ سکونت پذیر تھے، مدرسہ میں نہ ہونے اور ساتھیوں کے ساتھ نہ ہونے کی وجہ سے میں نے ان کی بات کی طرف کوئی خاص توجہ نہیں کی، مگر موصوف نے دل سے کہا تھا، اس لیے میری کاہلی کو جب دیکھا تو اگلے ہی دن کال کی اور پوچھا کہ : مسابقۂ خطاب میں حصہ لینے کے متعلق کیا سوچا؟ میں نے کہا کہ: بھائی! وہ آل انڈیا مسابقہ خطاب ہے، میں اس میں کیسے حصہ لے سکتا ہوں؟ کس شمار و قطار میں آؤں گا میں؟۔ میرا یہ جواب سن کر انہوں نے مجھے سمجھایا، موٹیویٹ کیا اور حوصلہ دیا کہ تم سے امید ہے اس لیے صرف تمہیں کہہ رہا ہوں ۔ ان کے ان پرخلوص کلمات کی میں نے لاج رکھ لی اور کہا کہ ٹھیک ہے بھائی! میں حصہ لے لوں گا۔ لیکن میرا دل حصہ لینے کے لیے بالکل بھی آمادہ نہیں تھا۔

🔸 کچھ دنوں بعد عید قرباں کی تعطیل ختم ہوئی اور ہم تمام طلبہ مادر علمی “جامعہ احسن البرکات” پہنچے، فخر عالم بھائی نے پہلی ہی ملاقات میں پوچھ لیا کہ کیا ہوا بھائی! حصہ لیے کہ نہیں؟ میں نے کہا: نہیں۔ میرا جواب سن کر انہوں نے خوب رنج و ملال کا اظہار کیا اور خواہش ظاہر کی کہ تم کو توحصہ لینا چاہیے-
رجسٹریشن کی تاریخ ابھی باقی تھی میں نے کہا کہ ٹھیک ہے، حصہ لے لوں گا، گزرتے دن کے ساتھ ان کے سوالات جاری رہے اور جواباََ میرا ٹال مٹول چلتا رہا بالآخر رجسٹریشن کی آخری تاریخ یکم محرم الحرام آ گئی۔ بلکہ اس نئے سال کے پہلے دن کا سورج رجسٹریشن کے آخری لمحات بھی لے کر ڈوبنے کے قریب آچکا تھا، تمام طلبہ نماز مغرب کی تیاری میں مصروف تھے اور وضو کرکے یکے بعد دیگرے روم میں داخل ہو رہے تھے۔ اس وقت تمام ساتھیوں نے بیک زبان مسابقۂ خطاب میں شرکت کرنے کے لیے مجھے ابھارا اور بالآخر بالکل آخری لمحے میں اپنا نام رجسٹریشن کروا ہی لیا۔
نام کا اندراج تو ہوگیا مگر تقریر کہاں سے بولوں، وہ بھی اس شخصیت کو عنوان بنا کر جن کا صرف تصور بوجهٍ مَّا مجھے حاصل تھا، اسی ٹینشن کے ساتھ جامعہ کے ایک لائق وفائق استاد حضرت مفتی شاداب احمد امجدی صاحب کے پاس گیا اور حقیقت حال سے آگاہ کیا۔ تو انہوں نے بہت خوشی کا اظہار کیا، اور فرمایا کہ یہ ہمارے لئے بہت خوشی کی بات ہے کہ ہمارے شاگرد آل انڈیا مقابلہ میں شرکت کر رہے ہیں. پھر میں نے اپنا عریضہ پیش کیا کہ حضرت! اس مقابلہ میں آپ میری رہنمائی فرمائیں۔ تو حضرت نے کہا کہ : کیوں نہیں انشاءاللہ ضرور جو مجھ سے ہو سکے گا کروں گا ۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ تقریر ریکارڈ کرکے بھیجنے میں صرف پانچ دن باقی تھے. ان پانچ دنوں میں حضرت کو تقریری مواد بھی فراہم کرناتھا اور مجھے تقریر یاد بھی کرنی تھی۔
حضرت اس وقت جداریوں کی اشاعت اور تدریسی خدمات میں بہت مصروف تھے اس لیے آخری وقت پر میرے لیے گئے اس فیصلے پر زجر و توبیخ بھی کی کہ اور پہلے بتانا چاہیے تھا تاکہ ڈھنگ سے کچھ لکھ سکوں ۔
پھر بھی موصوف نے ایک طالب علم کی حوصلہ شکنی نہ ہو بس اس لیے اس کم وقت میں اپنی تمام تر مصروفیات کے باوجود تیار ہوگئے اور بالآخر حضرت نے ایک دن پہلے تقریر دی اور اس فقیر نے حضرت کی دعاؤں کا توشہ لیتے ہوئے یاد بھی کرلی اور دوسرے دن ریکارڈ کرکے بھیج بھی دی۔

مقابلے کا انعقاد کرنے والوں نے یہ طریقہ اپنایا تھا کہ جتنے طلبہ بھی ریکارڈنگ بھیجیں گے ان میں سے ہم دس کا انتخاب اپنی صواب دید پر کریں گے اس لیے اب دس منتخب طلبہ کی لسٹ جاری ہونے کا انتظار تھا. بالآخر منتخب طلبہ کی لسٹ جاری ہو گئی اور اس میں اپنا نام دیکھ کر خوشی کی انتہا نہ رہی، کیوں کہ معلوم ہوا تھا کہ کثیر تعداد میں طلبہ نے شرکت کی ہے (بعد میں معلوم ہوا کہ ایک ہزار کے قریب طلبہ نے ریکارڈنگ ارسال کی تھی) اور ان میں میرا نام آنا صرف فضل الٰہی سے ہی ممکن ہوا، لسٹ میں اپنا نام دیکھا اور یہ خوشخبری جب میں نے اپنے ساتھیوں کو دی تو پورے کمرے میں فرحت و شادمانی کی ہوائیں چلنے لگیں۔ اور سبحان اللہ. ماشاءاللہ کے ساتھ مبارکبادیوں کی صدائیں گونجنے لگیں. اپنے ساتھیوں سے مبارکبادیاں حاصل کرنے کے بعد استاد مکرم مفتی شاداب امجدی کے پاس خوشخبری سنانے کے لئے گیا تو دیکھا کہ حضرت سونے کی تیاریاں کر رہے تھے جیسے ہی میں نے حضرت کو یہ خوشخبری سنائی تو حضرت خوشی سے جھوم گئے اور فرمایا کہ بابو! تم نے تو میری نیند ہی غائب کردی۔ دوسرے دن صبح فجر کے وقت جامعہ احسن البرکات کے پرنسپل حضرت علامہ عرفان ازہری صاحب کو جب یہ خوشکن خبر دی تو انہوں نے بھی بہت خوشی کا اظہار کیا اور دعاؤں سے نوازا اور پرنسپل صاحب نے اساتذۂ جامعہ کے گروپ میں یہ بات شیئر کی تو ابا حضور اور تمام اساتذہ نے دعاؤں سے نوازا ۔ 26/ اگست بروز جمعہ مسابقۂ خطاب میں شرکت کرنے کے لئے روانہ ہوتے وقت ابا حضور سے دعائیں بٹورنے کے لئے گیا تو ابا حضور نے اپنی عادت کے مطابق اپنی جیب سے کچھ رقم نکالی اور فقیر کو دیتے ہوئے کہا کہ : جاؤ اللہ تعالٰی آپ کو کامیابی عطا فرمائے۔ اس کے بعد پرنسپل صاحب اور تمام اساتذہ و احباب سے دعاؤں کی سوغات لئے ہوئے جامعہ سے نکلا اور خانقاہ عالیہ قادریہ برکاتیہ میں فاتحہ پڑھ کر خانقاہ عالیہ مینائیہ مسابقۂ خطاب میں شرکت کرنے کے لئے روانہ ہوا۔
اگلے دن سفر طے کرکے جامعہ امیر العلوم مینائیہ گونڈہ پہنچا، جامعہ کی فلک بوس عمارتیں دیکھ کر دل باغ باغ ہو گیا اور پھر وہاں کے انتظام وانصرام کا عالم یہ تھا کہ وہاں کے خدام چپل تک کو ترتیب سے رکھ رہے تھے اور مسابقہ کی شفافیت کا عالم یہ تھا کہ جیسے ہی ہم وہاں پہنچے ہم کو نگرانی میں لے لیا گیا تاکہ کسی سے مل نہ سکیں اور ایک خادم ہمارے ساتھ کر دیا گیا تاکہ وہ ہماری ضرورت پوری کرے۔ بالآخر وہ گھڑی آ گئی جس کا مجھے شدت سے انتظار تھا یعنی مسابقۂ خطاب شروع ہونے والا تھا کہ اچانک استاذ معظم حضرت مولانا تنویر احمد علیمی صاحب کا فون آیا اور کہنے لگے کہ ابھی ابا حضور کا فون آیا تھا اور وہ پوچھ رہے تھے کہ ہاشم کیسے ہیں؟ انکا کیا حال ہے؟ ان سے کہ دینا کہ بے فکر ہوکر تقریر کریں، میں دعائیں کر رہا ہوں۔ جیسے ہی میں نے یہ جملہ سنا میرے دل سے خوف وہراس ختم ہو گیا. اور مجلس میں بیٹھ کر اپنی باری کا انتظار کرنے لگا اور جب باری آئی تو چونکہ ابا حضور کا جملہ رہ رہ کر مجھے یاد آ رہا تھا اس لیے بلا خوف وخطر پوری دل جمعی اور مکمل اعتماد کے ساتھ خطاب کیا۔ جیسے ہی خطاب سے فارغ ہوا مفتی شاداب صاحب کا میسیج آیا ( چونکہ حضرت لائیو پروگرام دیکھ رہے تھے ) کہ بیٹا ایک نمبر تمہارا ہی ہے۔
اس کے بعد ہم سبق ساتھیوں کا فون آیا اور وہ بھی یہی جملے ادا کر رہے تھے جو حضرت نے فرمائے تھے۔ لیکن ابھی رژلٹ آنا باقی تھا، دوسرے دن جیسے ہی 7:50 پر بیدار ہوا تو دیکھا کہ حضرت کی دعاؤں سے لبریز میسیج اسکرین کی زینت بنے ہوئے ہیں، پڑھ کر دل تو مطمئن تھا ہی لیکن بہرحال رژلٹ کا انتظار تھا۔ وقت مقررہ پہ رژلٹ آوٹ ہوا دیکھ کر رب کی بارگاہ میں شکرانہ پیش کیا، پہلے پہل مجھے اپنی بصارت پہ یقین نہیں ہورہا تھا کہ میں نے دوسری پوزیشن حاصل کی ہے، پھر دل میں خیال آیا کہ کامیاب کیوں نہ ہوتا جب کہ ابھی کچھ دن پہلے عرس حضور صاحب البرکات کے مبارک موقع پر جب میں نے حضور صاحب البرکات کی حیات و خدمات پر تقریر کی تھی، اس وقت حضور امین ملت نے خوب خوب دعاؤں سے نوازا تھا اور حضور شرف ملت نے کہا تھا کہ “ایسی مختصر اور جامع تقریریں میں نے بہت کم سنی ہے” اور جنگ آزادی کے موقع پر اس فقیر نے ایک مضمون لکھا تھا اس وقت ابا حضور نے انعام و اکرام اور دعاؤں سے نوازتے ہوئے کہا کہ “اللہ تعالیٰ آپ کی زبان اور قلم دونوں کو مضبوط بنائے” ۔ میرے سرکاروں اور میرے اساتذہ کی دعاؤں کا سہرا میرے سر تھا تو پھر ناکام کیوں کر ہوتا ۔
سب سے پہلے قبلہ پرنسپل صاحب کو خوشخبری سنائی تو وہ بے ساختہ پکار اٹھے : ارے! ماشاءاللہ بیٹا! تم نے تو دل خوش کر دیا مبارک ہو بیٹا! ۔ پھر مفتی شاداب صاحب کے پاس فون کیا وہ بھی خوشخبری سننے کا انتظار ہی کر رہے تھے، جب میں نے ان کو بتایا تو وہ بھی بہت خوش ہوئے اور فرمایا کہ “بابو! تم نے ہمارا سر فخر سے اونچا کر دیا اور ہمارے جامعہ کا نام روشن کر دیا” ۔ پھر ابا حضور کو فون کیا تو ابا حضور نے فون اٹھاتے ہی فوراً کہا کہ “بیٹا! مبارک ہو”- اور خوشی کا اظہار فرماتے ہوئے دعاؤں سے نوازا۔
شام کے وقت جماعت اہل سنت کی مشہور ومعروف شخصیت، مناظر اہل سنت تاج الفقہاء حضرت علامہ مفتی اختر حسین صاحب علیمی دار العلوم علیمیہ جمدا شاہی اور خانقاہ عالیہ مینائیہ کے سجادہ نشین سرکار شاہ جمال مینا صاحب کے ہاتھوں خوبصورت ٹرافی اور فتاویٰ فقیہ ملت اور پچیس ہزار روپیے [25000] نقد انعام و اکرام سے نوازا گیا-[فالحمدلله علیٰ ذالک] اگلے دن جیسے ہی خانقاہ عالیہ قادریہ برکاتیہ مارہرہ مقدسہ پہنچا اساتذہ و طلبہ اور خانقاہ کے تمام خدام کے چہرے کھل اٹھے، پرجوش استقبال کیا اور مبارکبادیوں سے نوازا- ابا حضور سے ملاقات کی تو ابا حضور کی خوشی کی انتہا نہ رہی اور خوب خوب دعاؤں سے نوازا- میں اپنی اس نمایاں کامیابی پر تمام شہزادگان وآقایانِ خاندان برکات اورجملہ اساتذۂ کرام اور علاقۂ تھار کی بہت ہی عظیم شخصیت اور مغربی راجستھان کی ممتاز و منفرد دینی درسگاہ دارالعلوم انوار مصطفیٰ سہلاؤ شریف کے مہتمم وشیخ الحدیث اور میرے اوپر خصوصی طور پر ماں باپ سی شفقت فرمانے والے مفکر قوم وملت نورالعلماء والمشائخ حضرت علامہ الحاج سید نوراللہ شاہ بخاری کا ( جو وقتاً فوقتاً اپنی دعاؤں سے نوازتے رہتے ہیں، جن کی دعاؤں کا صدقہ مجھے یہ ملتا ہے کہ میں جس میدان میں بھی قدم رکھتا ہوں ان کی دعاؤں سے کامیاب ہوتا ہوں) اور دارالعلوم انوار مصطفیٰ کے ناظم تعلیمات اور لائق و فائق استاد اور ہندوستان کے مشہور ومعروف قلم کار حضرت مولانا شمیم احمد نوری مصباحی کہ جن کے مشوروں نے کئی جگہوں پر مجھے کامیاب کروایا. اللہ تعالٰی میرے تمام اساتذہ اور کرم فرماؤں کو سلامت رکھے اور عمر خضر عطا فرمائے-
ایں دعا از من واز جملہ جہاں آمین آباد

تازہ کاوش نعت رسول اللہ ﷺ از ✒کلیم احمد رضوی مصباحی پوکھریرا سیتامڑھی

میرا شافع سرِ میزَان ہے سبحان الله
وجد میں مُژدۂ غُفرَان ہے سبحان الله


رفعَتِ ذکر کی محفِل ہے گُلِسْتَانِ جہاں
بُلبُلِ عشق غزل خوان ہے سبحان الله


جوہرِ حُسنِ جہاں ہے رُخِ وَالش٘مس ترا
تیرا جلوہ مہِ کنعَان ہے سبحان الله


سُنبُلِستَان ہے جو کِشتِ تَخَیُّل شاہا
مدحتِ زلف کا فیضان ہے سبحان الله


واہ کیا حُسنِ تبسُ٘م ہے کہ چاروں جانب
بارشِ لؤلؤ و مَرجَان ہے سبحان الله


آپ بہتے چلے جاتے ہیں الم کے خاشاک
یمِ رحمَت کا وہ سیلَان ہے سبحان الله


کان حِکمَت ہیں حضور آپ کے سارے فرمان
حرف حرف آپ کا لقمان ہے سبحان الله


واہ کیا شانِ سلیمانِ عرب ہے جن کی
مَملکَت عالمِ امکَان ہے سبحان الله


ہاتھ میں جسکےنہیں کچھ بھی بظاہر،وہ نبی
ملکِ تکوین کا سلطان ہے سبحان الله


مُنشیِ رحمتِ باری ہیں نبی کے تابع
عام یوں فیضِ قلمدان ہے سبحان الله


حسنِ سرکار کی تفہیم ہے مقصد اس کا
چاند بھی آپ کا حسَ٘ان ہے سبحان الله


واہ کیا تابشِ رخ تیری ہے اے بدرِ مُنِیر
دیدۂ آئنہ حیران ہے سبحان الله


تیرے الفاظ معلم ہیں اے امی لقبی
تیرا ہر قول دَبِستَان ہے سبحان الله


قاب قوسین ترا طورِ رفعنا ہے شہا
اور ادنیٰ ترا ایوان ہے سبحان الله


مہبطِ وَحْیِ خدا جلوہ گَہِ حسنِ جناں
یانبی آپ کا دیوان ہے سبحان الله


پاک رکھا ہے جسے لوثِ خزَاں سے رب نے
وہ شَہِ دیں کا گُلِسْتَان ہے سبحان الله


جس کے صدقے میں ہے تزئینِ جہانِ انوَار
وصف اس حسن کا قرآن ہے سبحان الله


ماطَغیٰ حسنِ نگاہی کی گواہی ہے کلیم
چشمِ مَا زَاغ کی کیا شان ہے سبحان الله


از ✒
کلیم احمد رضوی مصباحی
پوکھریرا سیتامڑھی

نعت رسالتﷺ از ✒کلیم احمد رضوی پوکھریرا شریف


بزم تاج الشریعہ مشاعرہ نمبر 101

نقوشِ پاۓ نبوت نے کامیاب کیا
ہمیں نجوم ہدایت نے کامیاب کیا

کھلے جو غنچۂ امید تو کہا کہ ہمیں
نبی کی چشمِ عنایت نے کامیاب کیا

غموں کی دھوپ بھی اک امتحان تھی گویا
پھر ان کے سایۂ رحمت نے کامیاب کیا

یہ زہر عصیاں شعاری تھا کس قدر مہلک
نبی کے شہدِ شفاعت نے کامیاب کیا

مقابلہ جو مرا لشکرِ بلا سے ہوا
نبی کے راجلِ نصرت نے کامیاب کیا

بہ رزمِ زیست مجھے زہرِ یاس بخشے گئے
کرم ہے ان کا شریعت نے کامیاب کیا

مصیبتوں کی گرہ ناخنِ کرم سے کھلی
ہلالِ مطلعِ نسبت نے کامیاب کیا

یہ زہر عصیاں شعاری تھا کس قدر مہلک
ہمیں تو شہد شفاعت نے کامیاب کیا

ہرایک لفظ مہک اٹھامشک وگل کی مثال
غزل کو زلف کی مدحت نے کامیاب کیا

قرن قرینِ مدینہ ہوا بہ شوقِ وصال
اویسیت کو محبت نے کامیاب کیا

کبھی جو کام نہ آیا مرا چراغِ بصر
کرم سے ان کے بصیرت نے کامیاب کیا

کیاجودعویٰ کہ ہیں دوزخی عدوۓ رسول
مجھے حوالۂ تبَّت نے کامیاب کیا

جو نَفْس ذکر نبی سے نفیس ہے اس کو
نفَس نَفَس کی نفاسَت نے کامیاب کیا

نظر کو کاسۂ حسرت بنا کے دیکھ لیا
بتاؤ ! کیا زرِ رؤیت نے کامیاب کیا ؟

یہ خلد اور یہ اس کے حسیں نظارے کلیم
“ہمیں تو نعتِ رسالت نے کامیاب کیا”

از ✒
کلیم احمد رضوی
پوکھریرا شریف

۔۔۔۔۔ باسمہ تعالیٰ۔۔۔۔۔غلام احمد قادیانی کادعوئ نبوت اور موت۔۔۔پیش کش ۔۔۔سید آل رسول حبیبی ہاشمی خانقاہ قدوسیہ ، بھدرک شریف، اڈیشا


آج کا ایک بہت بڑا فتنہ ، فتنۂ قادیانیت ہے، انگریزوں کے ایماپر مرزا غلام احمد قادیانی نے نبوت کا دعوی کیا اور کچھ گنواروں نے اسے نبی مان بھی لیا
افسوس کہ اڈیشا کے بعض خطوں میں بھی یہ فتنہ پایا جاتا ہے
اس لئے آقائی سیدی مفتئ اعظم اڈیشا قدس سرہ موقع بہ موقع اس کے خلاف مؤثر خطاب فرمایا کرتے تھے
چنانچہ ایک بار مسئلۂ ختم نبوت کو شرح و بسط کے ساتھ پیش فرماتے ہوئے حضرت نے ارشاد فرمایا کہ
“ سرکار مدینہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نبیوں کے خاتم ہیں ، ان کے بعد کوئی نیا نبی نہ آیا ہے اور نہ آسکتا ہے
قرآن پاک ببانگ دھل اعلان کرتا ہے
مَا كَانَ مُحَمَّدٌ اَبَاۤ اَحَدٍ مِّنْ رِّجَالِكُمْ وَ لٰكِنْ رَّسُوْلَ اللّٰهِ وَ خَاتَمَ النَّبِیّٖنَؕ
محمد تمہارے مردوں میں کسی کے باپ نہیں ہاں اللہ کے رسول ہیں اور سب نبیوں میں خاتم
اور آقائے کریم ﷺ ارشاد فرماتے ہیں
و أنا خاتم النبیین، لا نبي بعدي (سنن ابی داود: ۴۲۵۲ وسندہ صحیح)
اور میں خاتم النبیین ہوں، میرے بعد کوئی نبی نہیں”
پھر حضرت نےپورے جوش و امنگ کے ساتھ ارشاد فرمایاکہ
“یہ مسئلہ ہمیشہ ساری امت میں متفق علیہ رہا ہے مگر مرزا غلام احمد قادیانی کا یہ خبث و رفث ہے کہ اس نے دعوئ نبوت کرکے امت میں سورش برپا کی اور اپنے انگریز آقاؤں کو شاد کیا۔
عزیزو! مرزا صاحب کذاب نبیوں میں سے ایک ہیں۔ ان کی خباثت و غلاظت ساری امت پر ظاہر و باہر ہے۔ ایسے غلیظ و خبیث کی موت بھی پائخانہ کے اندر واقع ہوئی ہے۔
اگر وہ واقعی نبی ہوتے تو ان کی موت پائخانہ کی غلاظت میں ہرگز نہ ہوتی اور اگر ان کے ماننے والے ان کو دل سے نبی مانتے تو ان کی قبر ضرور پائخانہ میں بناتے ۔
اس لئے کہ نبی جہاں موت کو لبیک کہتا ہے اس کو وہیں دفن بھی کیا جاتا ہے جیسا کہ آقائے کریم علیہ اکرم التسلیم ارشاد فرماتے ہیں
ما قبض الله نبيا إلا في الموضع الذي يحب ان يدفن فيه (سنن ترمذي:1018)
انبیاء کی وفات وہیں ہوتی ہے جہاں وہ دفن ہونا پسند کرتے ہیں
مگر مرزا صاحب نے موت کو گلے لگایا پائیخانے میں تو دفن بھی انکو وہیں ہونا چاہئے
معاذ اللہ ، معاذ اللہ
یہ کیسی عبرت ناک موت ہے ، افسوس کہ ان کے ماننے والوں کی عقلوں پہ پردہ پڑا ہوا ہے”
۔۔۔۔۔۔پیش کش ۔۔۔۔۔۔۔
سید آل رسول حبیبی ہاشمی
خانقاہ قدوسیہ ، بھدرک شریف، اڈیشا

نعت شہ دیں صلی اللہ علیہ وسلم۔۔۔۔۔۔از: سید خادم رسول عینی

اس کے لیے رحمت کا نہ کیوں باب کھلا ہو
گل جس سے شہ دین کی مدحت کا کھلا ‌ہو

نظروں میں کسی شخص کی گر غار حرا ہو
کیونکر نہ شجر اس کے تعلم کا ہرا ہو

تم سے ہی ہیں کونین کے سب تارے منور
تم خالق کونین کی یوں خاص ضیا ہو

ناعت ہوں میں مجھ کو دے زباں ایسی مرے رب
جو کوثر و تسنیم کے پانی سے دھلا ہو

اقصی’ کے ستوں پوچھتے ہیں یہ شب اسریٰ
کیسی تھی امامت شہ کونین کی ، شاہو

دل کے در و دیوار پہ ہے اسم محمد
بے ہوش نہ کیوں سامنے ہر ایک وبا ہو

میں فرحت مدح شہ عالم سے ہوں سرشار
کیوں زیست کی دنیا میں کبھی کوءی خلا ہو

عظمت ہم‌ اس انسان کی کیا “عینی “بتاءیں
اک وقت ہی جو صحبت آقا میں رہا ہو
۔۔۔
از: سید خادم رسول عینی

انگریزی پڑھنے سے تقدیر سے زیادہ نہیں ملتا..(موجودہ دور میں علم دین کی ضرورت و اہمیت)از قلم: محمد مجتدٰی رضا خان متعلم:جامعہ احسن البرکات مارہرہ شریف،ضلع:ایٹہ [یوپی]

موجودہ دور میں معاشرے کا جائزہ لینے کے بعد یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہوجاتی ہے کہ آج قوم مسلم صرف مغربیت کو ترجیح دے رہی ہے اور عصری علوم کو حاصل کرنے کے لیے علم دین مصطفیٰ ﷺ سے بیزاری ظاہر کر رہی ہے جس کا نتیجہ یہ نکل رہا ہے کہ آج حق و باطل کے درمیان خط امتیاز مٹتا جا رہا ہے۔ جبکہ اس پر فتن دور میں علم دین کی سخت ضرورت ہے اس لیے کہ آج دین اسلام اور مسلمانوں پر ہر طرف سے حملہ ہو رہا ہے، جہاں ایک طرف اسلام مخالف طاقتیں مسلمانوں کے جان و مال کو نیست و نابود کرنے کی سخت کوشش کر رہی ہیں، تو وہیں دوسری طرف فتنۂ وہابیت اور فتنۂ دیوبندیت ہمارے اعمال اور ہمارے عقائد کو مجروح کر رہے ہیں۔ اور اس پرفتن ماحول میں جو سب سے زیادہ مہلک فتنہ ہے وہ صلح کلیت کا فتنہ ہے جو اسلام کا لبادہ اوڑھ کر ہمارے ایمان پہ ڈاکہ ڈال رہا ہے ۔ اسلام کے آستینوں میں چھپ کر سانپ کی طرح ڈس رہا ہے اور اندر سے کھوکھلا کر رہا ہے اور ہمارے عقائد پر سختی سے وار کر رہا ہے لیکن افسوس کا مقام یہ ہے کہ آج بھی ہماری قوم فتنۂ وہابیت اور فتنۂ صلحِ کلیت و دیوبندیت کو پہچاننے میں ناکام ہے۔ مسلک اعلیٰ حضرت اور فرقۂ باطلہ کے درمیان امتیاز کرنے سے قاصر ہے، اس کی وجہ یہ ہے کہ آج امت مسلمہ علم دین اور علم شرائع سے بہت دور ہو گئی ہے۔
آج ہمارے معاشرے کا ہر فرد یہ سوچتا ہے کہ اگر ہم علم دین حاصل کریں گے تو ہمیشہ غریبی میں زندگی بسر کریں گے، اگر ہم عالم بن جائیں گے تو دنیاوی شان و شوکت اور دولت و سرمایہ ہاتھ سے چلا جائے گا، غرض کہ پوری امت مسلمہ اس قسم کے باطل اوہام و افکار کے دام فریب میں پھنسی ہوئی ہے۔ سبب یہ ہے کہ لوگوں نے اللہ تعالی کی ذات پر توکل نہیں کیا بلکہ صرف اسباب پر توکل کیا، حالانکہ ہم دیکھتے ہیں کہ ہمارے بے شمار ایسے علمائے کرام ہیں جن کو اللّٰہ نے بے شمار دولتیں عطا فرمائی ہیں جن کے ذریعہ وہ دین کی نشرواشاعت کر رہے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ حضور حکیم الامت مفتی احمد یار خان نعیمی علیہ الرحمۃ والرضوان لکھتے ہیں کہ: ” انگریزی پڑھنے سے تقدیر سے زیادہ نہیں ملتا، عربی پڑھنے سے آدمی بدنصیب نہیں ہو جاتا، ملے گا وہی جو رزاق نے قسمت میں لکھا ہے بلکہ تجربہ یہ ہے کہ اگر عالم پورا عالم اور صحیح العقیدہ ہو تو بڑے آرام میں رہتا ہے اور جو لوگ اردو کی چند کتابیں دیکھ کر وعظ گوئی کو بھیک کا ذریعہ بنا لیتے ہیں کہ وعظ کہہ کر پیسے مانگنا شروع کر دیا۔ ان کو دیکھ کر عالم دین سے نہ ڈر، یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے اپنا بچپن آوارگی میں خراب کر دیا ہے اور اب مہذّب بھکاری ہیں ورنہ علمائے دین کی اب بھی بہت قدر و عزت ہے جب گریجویٹ مارے مارے پھرتے ہیں تو مدرسین علماء کی تلاش ہوتی ہے اور نہیں ملتے “۔

محترم قارئین! جب آپ غور کریں گے تو معلوم ہوگا کہ قادر مطلق اور رزّاق مطلق اللّٰه تعالیٰ کی ذات ہے وہ جسے چاہتا ہے عزت و سربلندی کا تاج اس کے سر پر رکھ دیتا ہے۔ صوفیاںٔے کرام فرماتے ہیں کہ ” شریعت و طریقت پرکامیابی سے چلنے کے لیے توکّل علی اللّٰه سب سے بڑی عبادت ہے “۔
محترم قارئین! آپ غور فرمائیں کہ ایسی تعلیم سے کیا فائدہ جو آپ کے عقائد و اعمال کی حفاظت نہ کرسکے جو آپ کو شریعت مصطفی ﷺ اور مسلک اعلیٰ حضرت سے دور کر دے۔ ایسی تعلیم لا یعنی ہے جس کے ذریعے آپ اسلام مخالف طاقتوں کا مقابلہ کرنے کے بجائے اس کا آلۂ کار بن جائیں، جس تعلیم کے ذریعے آپ فتنۂ وہابیت، دیوبندیت و فتنۂ صلحِ کلیت سے خود اور اپنے گھر والوں اور اپنی سوسائٹی اور امت مسلمہ کا دفاع نہیں کرسکتے، اس لیے ہم عصری تعلیم کو صرف بقدر ضرورت ہی حاصل کریں، باقی ہم اجلّ علوم کو حاصل کریں تاکہ ہم اپنے عقائد و اعمال کو بحسن خوبی محفوظ کر سکیں ممکن ہے کہ جب ہم علم دین حاصل کریں گے تو ہمارے پاس دولت کی فراوانی نہیں ہوگی تو اس کی بالکل بھی فکر نہ کریں اور اللّٰه تعالیٰ کی ذات پر مکمل توکّل کریں اور اس کی خوشنودی حاصل کرنے کی کوشش کریں وہ بے حساب نوازے گا۔
محترم قارئین! جب ہم اپنے معاشرے اور اپنے قوم کا جائزہ لیتے ہیں تو ہم یہ دیکھتے ہیں کہ بے شمار لوگ دنیاوی اعتبار سے ہائی ایجوکیشن تو حاصل کر چکے ہیں لیکن افسوس اس بات پر ہے کہ وہ لوگ صحیح طور سے کلمۂ طیبہ شریف بھی پڑھنا نہیں جانتےہیں۔ طہارت اور نماز کے ضروری مسائل سے ناواقف ہوتے ہیں قرآن مجید کی چھوٹی چھوٹی سورتیں بھی صحیح اور سلیقے سے نہیں پڑھ پاتے اسلام کے بنیادی عقائد اور وہ ضروریات دین جن پر ایمان کا دارومدار ہے اس کا بھی علم نہیں رکھتے ہیں، حتیٰ کہ حرام و حلال میں تمیز نہیں کر پاتے اور بسا اوقات لاعلمی کی وجہ سے کفریہ کلمات بھی اپنی زبان سے ادا کر دیتے ہیں۔
قارئین کرام! جب ہم وضو اور غسل کرنا صحیح طور سے نہیں سیکھیں گے تو اس وضو اور غسل سے جتنی نمازیں ادا کریں گے سب رائیگاں ہوں گی اور اس کا اعادہ واجب و ضروری ہوگا اور قرآن شریف پڑھنا نہیں سیکھیں گے تو نماز پڑھنا اور ایصال ثواب کرنا بھی نہیں جان پائیں گے تو پھر ایسے علوم کے لئے جدوجہد کرنا لا یعنی ہے جس کے ذریعے ہم حرام و حلال میں تمیز نہ کرسکیں۔ جس کے ذریعے ہم وہ مسائل جو ضروریاتِ دین سے ہیں اور ہمارے روز مرہ کی زندگی سے تعلق رکھتے ہیں اس کو حل نہ کر سکیں اور مسلک اعلیٰ حضرت کو فرقۂ باطلہ سے ممتاز نہ کر سکیں۔
قارئین کرام ہم پر ضروری ہے کہ ہم علوم دین کو اعلیٰ لیول پر حاصل کریں اور گھر گھر علم دین کا چراغ روشن کریں تاکہ ہم اسلام مخالف طاقتوں اور فرقۂ باطلہ کا سدّباب کر سکیں۔
چراغ علم نبی ہر طرف جلائیں گے
جہاں سے جہل کی تاریکیاں مٹائیں گے

یاد رکھیں ! دنیا کی زندگی چار دن کی ہے پھر ہمیشہ رہنے والے گھر کی طرف لوٹنا ہے تو ہمیشہ جہاں رہنا ہے وہاں کا انتظام کرو، جہاں مسافرت کے دن کاٹنے آئے ہو وہاں کی فکر چھوڑو بھوکے مر جاؤ مگر ایمان کے ساتھ مرو۔

میرے ہاتھ میں جو قلم ہے ”استاذ“ کی عطا ہے۔✍️آصف جمیل امجدی

ہر دہر میں استاذ کی اہمیت و افادیت کو مسلم الثبوت مانا گیا ہے۔ اللہ عزوجل نے نبی آخرالزماں ﷺ کے صدقے میں، کاٸنات و مافیھا کی خلقت فرماٸی، وہ مقدس نبی اپنی معرفت ایک بہترین معلم [استاد] کی شکل میں فرما رہے ہیں۔
گویا کاٸنات میں رنگ و روغن ایک ماہر تجربہ کار بااخلاق استاذ کے دم قدم اور محنتوں کا مثبت ثمرہ ہے۔ ایک انسان اگر اپنی زندگی کی رعناٸیوں میں گوناگوں نعمتوں سے بحراور ہے، عزت و شرف کے اعلیٰ منسب پر فاٸزالمرام ہے تو یہ سب اساتذہ کی مرہون منت ہے جس کا کسی زباں میں مجال انکار نہیں۔
آج ہی کے تاریخ یعنی 05/ ستمبر کو طلبہ یوم اساتذہ[Teacher,s day] کے حسین موقع پر اپنے جملہ معزز اساتذہ کی بارگاہ میں خراج عقیدت پیش کرتے ہیں اور ان کی صلاحیتوں کو بروۓ کار لانے کی نایاب کوشش کرتے ہیں۔ کیوں کہ طلبہ کو معلوم ہے کہ انہی کی پاکیزہ ٹھوکروں میں ہمارے تخت و تاراج ہیں۔ اگرچہ مہمان رسول کی منور فہرست میں نام درج کرانے کا سہرا والدین کے سر سجتا ہے، لیکن علم مصطفےٰﷺ کا طالب و شاٸق بنانا اساتذہ کرام کی مشفقانہ و اخلاقیانہ کردار کا نتیجہ ہے۔ اگر طلبہ علم دین کی حصولیابی میں مصروف عمل ہیں تو یہ انہی مشفق اساتذہ کی مرہون منت ہے۔ خوف خدا، عشق مصطفےٰ کے شیریں جام سے اسی میکدے نے شرسار کیا ہے۔
انہی کے در سے عزت و شرف، علم و عمل کی ساری بہاریں ہیں۔ ایک شاگرد کو اپنے استاذ کی بارگاہ سے ایسی ایسی نادر و نایاب لازوال دولت ملتی ہے جس کا وہ زندگی میں کبھی تصور تک بھی نہیں کرسکتا۔
ایک استاذ ہی ہے جو طلبہ کو جہل کی تاریک وادیوں سے نکال کر، نور علم سے ان کے سینوں کو منور و مجلیٰ کرتے ہیں۔
جب بھی انسان اپنے آپ کو ترقی یافتہ پاۓ گا تو اس کی زندگی کے رموز و اوقاف کے فریم پر سنہرے حرفوں سے “استاذ” لکھا ہوگا۔ تعلیم قومی زندگی کے لیے ریڑھ کی ہڈی کے مانند ہے۔ تعلیم یافتہ افراد ہی سماجی زندگی کے تانے بانے بنتے ہیں۔ وقت کی نبض پر انہی کی نظر ہوتی ہے۔بدلتے حالات کا تجزیہ کرتے ہوۓ منصوبہ بندی بھی انہی کے ذریعہ ممکن ہوتی ہے۔قوموں کے عروج و زوال میں تعلیمی زندگی اور ان کے تقاضوں پر عمل آوری فیصلہ کن کردار نبھاتی ہے۔ حصولِ علم کے بنیادی ارکان میں سے ایک اہم رُکن استاذ ہے، تحصیلِ علم میں جس طرح درسگاہ و کتاب کی اہمیت ہے اسی طرح حصولِ علم میں استاذ کا ادب و احترام مرکزی حیثیت کا حامل ہے۔ استاذ کی تعظیم و احترام شاگرد پر لازم ہے کہ استاذ کی تعظیم کرنا بھی علم ہی کی تعظیم ہے اور ادب کے بغیر علم تو شاید حاصل ہو جائے مگر فیضانِ علم سے یقیناً محرومی ہوتی ہے اسے یوں سمجھئے: “با ادب با نصیب، بے ادب بے نصیب”
استاذ کے ادب کے مختلف دینی اور دُنیوی فوائد طالبِ علم کو حاصل ہوتے ہیں جن میں سے بعض یہ ہیں:

(1) امام بُرھان الدّین زرنوجی رحمۃ اللّٰه علیہ فرماتے ہیں: ایک طالبِ علم اس وقت تک علم حاصل نہیں کر سکتا اور نہ ہی اس سے نفع اٹھا سکتا ہے جب تک کہ وہ علم، اہلِ علم اور اپنے استاذ کی تعظیم و توقیر نہ کرتا ہو۔

(2) امام فخر الدین ارسا بندی رحمۃ اللّٰه علیہ مَرْو شہر میں رئیسُ الائمہ کے مقام پر فائز تھے اور سلطانِ وقت آپ کا بے حد ادب و احترام کیا کرتا تھا۔ آپ فرمایا کرتے تھے کہ مجھے یہ منصب اپنے استاذ کی خدمت و ادب کرنے کی وجہ سے ملا ہے۔
(راہ علم، ص 35 تا 38 ملتقطاً)

(3) صلاحیتِ فکر و سمجھ میں اضافہ ہونا

(4) ادب کے ذریعے استاذ کے دل کو خوش کر کے ثواب حاصل کرنا، حدیث ِپاک میں ہے: اللّٰه پاک کے فرائض کے بعد سب اعمال سے زیادہ پیارا عمل مسلمان کا دل خوش کرنا ہے۔ (معجم اوسط، 6 / 37، حدیث: 7911)

(5) ادب کرنے والوں کو اساتذۂ کرام دل سے دُعائیں دیتے ہیں اور بزرگوں کی دعا سے انسان کو بڑی اعلیٰ نعمتیں حاصل ہوتی ہیں۔
(صراط الجنان، 8 / 281)

(6) ادب کرنے والے کو نعمتیں حاصل ہوتی ہیں اور وہ زوالِ نعمت سے بچتا ہے کیونکہ جس نے جو کچھ پایا ادب و احترام کرنے کے سبب ہی سے پایا اور جس نے جو کچھ کھویا وہ ادب و احترام نہ کرنے کے سبب ہی کھویا۔
(تعلیم المتعلم، ص 35)

(7)استاذ کے ادب سے علم کی راہیں آسان ہو جاتی ہیں۔
(علم و علماء کی اہمیت، ص 108)

والدین کی بھی ذمہ داری ہے کہ اپنی اولاد کو علم و اہلِ علم کا ادب سکھائیں۔ حضرت ابنِ عمر رضی اللّٰه عنہ نے ایک شخص سے فرمایا: اپنے بیٹے کو ادب سکھاؤ بے شک تم سے تمہارے بیٹے کے بارے میں پوچھا جائے گا اور جو تم نے اسے سکھایا اور تمہاری فرمانبرداری کے بارے میں اس لڑکے سے سوال کیا جائے گا۔
(شعب الایمان، حدیث: 8409)

☜اپنے استاد کی ہمیشہ دل سے قدر کیجیے، وہ چاہے مالی طور پر کم حیثیت کے ہوں، کبھی بھی ان کو مزاق کا نشانہ نہ بنائیۓ۔ یہ خدا کو غضب ناک کرنے والی بات ہے۔
☜استاد روحانی باپ کی طرح ہوتا ہے، سختی کرے یا ترش بولے تو اس کی اِدھر اُدھر شکایت نہیں کرنی چاہیے۔بلکہ اس کا جائز شکوہ اور گلہ دور کرکے اسے خوشی کا موقع فراہم کرنا چاہیے۔
☜استاد کی خوشیوں اور غموں میں شریک ہونا چاہیے۔
☜استاد کی نظروں میں مقام بنانا مشکل کام نہیں ۔ اس کی پسند اور نگاہوں کو جانیں۔ جس جس خوبی اور کام کو وہ محبوب رکھتے ہیں اسے اختیار کریں۔
☜استاد سے کبھی گستاخی نہ کریں اور نہ ہی اونچے لہجے میں بات کریں۔
☜استاد کے ساتھ کج بحثی سے ہمیشہ گریز کریں۔غیر موجودگی میں ان کے عزت کی حفاظت کریں۔ ناکہ دوسروں کے ساتھ مل کر ان کے الٹے سیدھے نام رکھے جائیں اور ان کا مزاق اڑایا جاۓ۔
☜استاد سے تعلیم کے علاوہ بھی مشورے لینے اور رہنمائی حاصل کرنا کا ماحول بنانا چاہیے۔تاکہ ان کے تجربے اور مشاہدے سے فیض حاصل ہوسکے۔
☜استاد سے تعلیم مکمل ہونے کے بعد بھی رابطہ رکھنا چاہیے اور کبھی کبھی تحائف بھی بھجواتے رہنا چاہیے۔ روحانی ماں باپ کی دعائیں بے حد کارگر ہوتی ہیں۔
یوم اساتذہ[Teachers day] کی مناسبت سے پیاری سی نظم نذر قارئین کی جارہی ہے۔

استاذ محترم کو میرا سلام کہنا
اے دوستو!
ملیں تو بس اک پیام کہنا
کتنی محبتوں سے پہلا سبق پڑھایا
میں کچھ نہ جانتا تھا سب کچھ سکھایا
ان پڑھ تھا اور جاہل، قابل مجھے بنایا
دنیاۓ علم و دانش کا راستہ مجھے دکھایا
مجھ کو دلایا کتنا اچھا مقام
کہنا استاذ محترم کو میرا سلام
مجھ کو خبر نہ تھی آیا ہوں کہاں سے
ماں باپ اس زمیں پر لاۓ تھے آسماں سے
پہنچا دیافلک تلک استاذ نے یہاں سے
واقف نہ تھا ذرا بھی اتنے بڑے جہاں سے
جینے کا فن سکھایا مرنے کا بانکپن بھی
عزت کے گر بتاۓ، رسوائی کے چلن بھی
کانٹے بھی راہ میں ہیں، پھولوں کی انجمن تھی
تم فخر قوم بننا اور نازش وطن بھی
ہے یاد مجھ کو ان کا اک اک کلام
کہنا! استاذ محترم کو میرا سلام کہنا
جو علم کا علم ہے استاذ کی عطا ہے
ہاتھوں میں جو قلم ہے استاد کی عطا ہے
جو فکر تازہ دم ہے استاد کی عطا ہے
جو کچھ کیا رقم ہے استاد کی عطا ہے
ان کی عطا سے چمکا ہے نام
کہنا!
استاذ محترم کو میرا سلام کہنا۔
(منقول)

(مضمون نگار روزنامہ شان سدھارتھ کے صحافی ہیں)