شبِ فراق ہے اشکوں کا تو حساب نہ پوچھہر اک سوال کا مجھ سے یہاں جواب نہ پوچھ بس ایک چوک ہوئی تھی جو ماں ہوئی برہمہماری قبر میں کیا کیا ہوۓ عذاب نہ پوچھ اشارہ عیب کی جانب کیا ہے بس ہم نےہم ان کی نظروں میں کتنے ہوۓ خراب نہ پوچھ تمام عمر […]
نیا وقت، نیا جنوں، نیا پیام