غزل

غزل: زہریلی ہو گئی ہے چراغوں کی روشنی

سینے میں جس کے ہوگی کتابوں کی روشنیپائیں گے وہ نصاب کے تاروں کی رو روشنی پرتو سے کہ رہی ہے کناروں کی روشنیظلمت لیے ہے ساتھ چراغوں کی روشنی نمناک چشم دیکھ کے ظلمت کدے تلکپہنچیں گی خودبخود ہی شراروں کی روشنی آتی ہے تیرے حسن کا صدقہ اتارنےپڑتی ہے جو زمین پہ تاروں […]

غزل

غزل: راحت کو غم و درد پہ سبقت نہیں ملتی

تب تک دلِ بے کیف کو راحت نہیں ملتیجب تک تری الفت کی حرارت نہیں ملتی ہونٹوں پہ سدا جس کے رہے جھوٹ کی لعنتایسے کسی انسان کو عزت نہیں ملتی انعام کی امید کرے کوئی وہاں کیامحنت کی جہاں لوگوں کو اجرت نہیں ملتی کچھ کر کے دکھانا ہے جہاں والوں کے آگےآرام طلبی […]

غزل

غزل: رنگ پھیکے پڑ گئے تصویر کے

کیا دکھا دیں اپنا سینہ چیر کےہم نہیں خواہاں کسی جاگیر کے بو الہوس کرنی چھپانے کے لیےتذکرے کرتے ہیں رانجھا ہیر کے ترجمانی کرتے کرتے وقت کی”رنگ پھیکے پڑ گئے تصویر کے“ ڈال دیتے ہیں جو اہل دل نظرنوشتے بھی مٹتے ہیں تقدیر کے روح کی تسکین پائیں گےضرورجو ہیں پیروکار سچے پیر کے […]

غزل

غزل: طوفان کی راہوں میں چراغ ایسے جلا دو

رخ بدلے زمانے کا وہ طوفان اٹھا دوہر سمت اٹھی ظلم کی بنیاد ہلا دو تم حق کے اگر واقعی سچے ہو پرستارباطل کے ہر اک نقش کو دنیا سے مٹا دو ہو جائے نہ یہ خاک کہیں جل کے گلستاںاب اور نہ بھڑکے ہوئے شعلوں کو ہوا دو اس عہد کی بدحالی سخنور سے […]

غزل

غزل

مٹ رہا ہوں تری حفاظت میںاجر اچھا ملا محبت میں ایک دیوانگی کا عالم ہےکیا کہوں کیا ہوا ہے الفت میں اپنے پالے میں سب بلانے لگےنام ایسا ہوا سیاست میں میزبانی میں آج میرا رقیبنفرتیں لے کے آیا خدمت میں مجھ سے روٹھے ہوئے ہیں کیوں صاحبکیا کمی ہو گئی ہے عزت میں قتل […]

غزل

غزل: وقت لگتا ہے زخم بھرنے میں

کچھ بھروسہ ہے ؟جینےمرنےمیںعافیت ہے جی کہہ گزرنے میں زخم دے کر وہ گیا رخصتہم رہے صرف آہ بھرنے میں ایک مدت لگی ہے اے جاناںآپ سے رسم و راہ کرنے میں مندمل جلد یوں نہیں ہوتاوقت لگتا ہے زخم بھرنے میں ان کا وعدہ تھا ساتھ رہنے کاعمر بھر دردوغم کو سہنے میں اتنی […]

غزل

غزل: شبِ فراق ہے اشکوں کا تو حساب نہ پوچھ

شبِ فراق ہے اشکوں کا تو حساب نہ پوچھہر اک سوال کا مجھ سے یہاں جواب نہ پوچھ بس ایک چوک ہوئی تھی جو ماں ہوئی برہمہماری قبر میں کیا کیا ہوۓ عذاب نہ پوچھ اشارہ عیب کی جانب کیا ہے بس ہم نےہم ان کی نظروں میں کتنے ہوۓ خراب نہ پوچھ تمام عمر […]

غزل

غزل: تیرے سوا میں اپنا کروں راہبر کسے

حیران ہوں کہ سمجھوں بھلا معتبر کسےدکھلاؤں آہ اپنا میں دردِ جگر کسے آئے گا سن کے کون عیادت کے واسطےحیراں ہوں اپنے حال کی بھیجوں خبر کسے مرنے کے بعد میرے تمہیں یاد آئے گابھٹکاؤ گے یوں اور بھلا در بدر کسے رہزن ہیں رہبری کے لبادے میں گھات پر"تیرے سوا میں اپنا کروں […]

غزل

غزل: زبان کھول دوں اتنی مری مجال کہاں

نہ پوچھ حال مرا پہلے جیسا حال کہاںجنون ہو گئے برفاب اب دھمال کہاں وہ اور دن تھے جوانی کے جو کہ بیت گئےہمارے خون میں اس وقت وہ ابال کہاں خلاف آپ کے یوں توبہ توبہ میرے حضورزبان کھول دوں اتنی مری مجال کہاں میں ایک ذات مقدس ہوں اور تو کافرترا خیال کہاں […]

غزل

تاج محل

تابش روئے حسیں، تا ج محل،شر ح جما لجیسے شاعر کی غزل جیسے مصور کا خیال ہند کو نا ز ہےجس پر و ہ حسیں تا ج محلکو ئی تمثیل نہ تیر ی نہ کو ئی تیر ا بد لا ہل د ل کےلیے ا حسا س کی دھڑ کن گو یابو ئےگل،خو ا ب […]