غزل

غزل: ویسے انسانوں کو نگر میں ہم نے دریدہ دیکھا ہے

خون میں لت پت زخمی زخمی ایک پرندہ دیکھا ہےویسے انسانوں کو نگر میں ہم نے دریدہ دیکھا ہے یکجا میں طاقت ایسی قیصر و کسری کانپ اٹھےورنہ بکھرے تاروں کا ہم نے بھی نتیجہ دیکھا ہے کیسے ہیں خاموش ابھی تک رکھوالے قانون کے یاںاٹھتا ہوا آئین کا اس جا سب نے جنازہ دیکھا […]

غزل

غزل: اسیرانِ محبت کو رہائی تنگ کرتی ہے

وفا کے ساتھ جانم بے وفائی تنگ کرتی ہے مجھے تھوڑی سی تیری کج ادائی تنگ کرتی ہے جدا ہونے سے پہلے تم ذرا یہ سوچ لو جانم تمہاری ایک پل کی بھی جدائی تنگ کر تی ہے اداسی میں بدل جاتے ہیں منظر دل لگی کے سب تمہاری یاد مجھ کو انتہائی تنگ کرتی […]

غزل

غزل: ستانا اپنے پڑوسی کو اپنی عادت ہے

یہ آپ کا ہے کرم آپ کی عنایت ہےجہاں میں آج جو ہر سمت میری شہرت ہے اگر ہو عشق سے خالی عبادتیں تیریزمیں پہ سر کو جھکانا ترا اکارت ہے نثار کردے جو جاں دین کی تحفظ میںاسی کے واسطے فردوس کی بشارت ہے اصولِ بزمِ محبت سے جو نہیں واقفاسی کے حصے میں […]

غزل

غزل: ہاے بے چارگی محبت کی

پیاس ایسی بڑھی محبت کیابرِ نفرت سے بھی محبت کی ڈوب جائے نہ آس کا سورجرک نہ جائے گھڑی محبت کی خواب میں خواب تھا محبت کاچیخ میں چیخ تھی محبت کی امڈے امڈے سے ابر نفرت کےسہمی سہمی ندی محبت کی پھر تناسب بڑھا تنفّر کاپھر ضرورت بڑی محبت کی ہاے دل کا تباہ […]

غزل

غزل: تم دن کے اجالے میں سیہ رات کرو ہو

تم بھی تو میاں خوب کرامات کرو ہوتم دن کے اجالے میں سیہ رات کرو ہو دشمن وہ تمہارا ہے مگر ہم نے سنا ہےتم اس سے اکیلے میں ملاقات کرو ہو کیا اجر ملیگا یہ بھلا کیسے بتائیںتم سب کو دکھاتے ہوئے خیرات کرو ہو تم نے تو کبھی اتنی محبت نہ دکھائیکیا بات […]

غزل

ہوئے راز میرے عیاں کیسے کیسے

ممتاز و معروف شاعر حضرت امیر مینائی مرحوم کی روح سے معذرت کے ساتھ ایک چھوٹی سی طرحی کاوش (طنزومزاح) بطرح "زمیں کھا گئی آسماں کیسے کیسے” رہ عشق میں ہیں جہاں کیسے کیسےہوئے در بہ در یاں جواں کیسے کیسے ذرا دیر سے گھر کو لوٹیں اگر ہموہ کرتے ہیں ہم پر گُماں کیسے […]

غزل

طرحی غزل: پھیکا ہے اس کے سامنے رنگ ہلال بھی

اس پر لٹایا مال بھی جاہ و جلال بھیکتنی عجیب چیز ہے حسن و جمال بھی ہر شام آفتاب ہمیں دیتا ہے سبقپایا ہے جب عروج تو ہوگا زوال بھی گاہے بگاہے آتا ہے خوشیا ں لئے ہوئےمہمان بن گیا ہے تمہارا خیال بھی میں جاں نثار بن کے لو میداں میں آگیاآنکھیں دکھائے اب […]

غزل

طرحی غزل: میرے گلشن کے باغباں تم ہو

ملک و ملت کے ترجماں تم ہودین و سنت کے پاسباں تم ہو دھوپ بارش میں سائباں تم ہومیرے گلشن کے باغباں تم ہو کون کہتا ہے امن کا دشمنسچ میں الفت کا اک نشاں تم ہو میں تمہیں کیسے بھول سکتا ہوںزندگی بھر کی داستاں تم ہو بھیک کیوں مانگتے ہو غیروں سےخوب محنت […]

غزل

غزل: مرے غموں کا سمندر کچھ اتنا گہرا تھا

وہ جس کے حسن عمل کا جہاں میں چرچا تھاہمیشہ غم کے سمندر میں غرق رہتا تھا جمال یار کو ممکن نہیں بیاں کرناکوئی مثال بھی ہو تو بتاؤں کیسا تھا ہواءے عقل و خرد اس جگہ نہیں پہنچیجہاں پہ اہل جنوں کا چراغ جلتا تھا ندی خوشی کی کہاں گم ہوئی پتہ نہ چلامرے […]

غزل

غزل: گر زخم ملے گا بھی تو گلفام سا ہوگا

سوچا تھا محبت میں کچھ آرام سا ہوگاگر زخم ملے گا بھی تو گلفام سا ہوگا تُو نے جو کہا میرے لیے عام نہیں ہےپر تیرا کہا تیرے لیے عام سا ہوگا اکثر یہ تصوّر بھی ستاتا ھیکہ وہ لبخود جام ہی ہوگا یا فقط جام سا ہوگا اک بار مری آنکھ سے آنکھیں تو […]