نعت رسول

نعت رسول: شاہِ ہر دوسرا آپ ہیں آپ ہیں

شاہِ ہر دوسرا آپ ہیں آپ ہیںبعدِ رب العلا آپ ہیں آپ ہیں آپ بدر الدجیٰ آپ شمس الضحیاور خیر الوری آپ ہیں آپ ہیں جس کا ہم سر نہیں جس کا ثانی نہیںاے حبیبِ خدا آپ ہیں آپ ہیں کیا نبی کیا ولی کیا تقی کیا نقیجس پہ سارے فدا آپ ہیں آپ ہیں […]

غزل

غزل: ستانا اپنے پڑوسی کو اپنی عادت ہے

یہ آپ کا ہے کرم آپ کی عنایت ہےجہاں میں آج جو ہر سمت میری شہرت ہے اگر ہو عشق سے خالی عبادتیں تیریزمیں پہ سر کو جھکانا ترا اکارت ہے نثار کردے جو جاں دین کی تحفظ میںاسی کے واسطے فردوس کی بشارت ہے اصولِ بزمِ محبت سے جو نہیں واقفاسی کے حصے میں […]

غزل

غزل: ہاے بے چارگی محبت کی

پیاس ایسی بڑھی محبت کیابرِ نفرت سے بھی محبت کی ڈوب جائے نہ آس کا سورجرک نہ جائے گھڑی محبت کی خواب میں خواب تھا محبت کاچیخ میں چیخ تھی محبت کی امڈے امڈے سے ابر نفرت کےسہمی سہمی ندی محبت کی پھر تناسب بڑھا تنفّر کاپھر ضرورت بڑی محبت کی ہاے دل کا تباہ […]

غزل

غزل: تم دن کے اجالے میں سیہ رات کرو ہو

تم بھی تو میاں خوب کرامات کرو ہوتم دن کے اجالے میں سیہ رات کرو ہو دشمن وہ تمہارا ہے مگر ہم نے سنا ہےتم اس سے اکیلے میں ملاقات کرو ہو کیا اجر ملیگا یہ بھلا کیسے بتائیںتم سب کو دکھاتے ہوئے خیرات کرو ہو تم نے تو کبھی اتنی محبت نہ دکھائیکیا بات […]

غزل

ہوئے راز میرے عیاں کیسے کیسے

ممتاز و معروف شاعر حضرت امیر مینائی مرحوم کی روح سے معذرت کے ساتھ ایک چھوٹی سی طرحی کاوش (طنزومزاح) بطرح "زمیں کھا گئی آسماں کیسے کیسے” رہ عشق میں ہیں جہاں کیسے کیسےہوئے در بہ در یاں جواں کیسے کیسے ذرا دیر سے گھر کو لوٹیں اگر ہموہ کرتے ہیں ہم پر گُماں کیسے […]

غزل

طرحی غزل: پھیکا ہے اس کے سامنے رنگ ہلال بھی

اس پر لٹایا مال بھی جاہ و جلال بھیکتنی عجیب چیز ہے حسن و جمال بھی ہر شام آفتاب ہمیں دیتا ہے سبقپایا ہے جب عروج تو ہوگا زوال بھی گاہے بگاہے آتا ہے خوشیا ں لئے ہوئےمہمان بن گیا ہے تمہارا خیال بھی میں جاں نثار بن کے لو میداں میں آگیاآنکھیں دکھائے اب […]

غزل

طرحی غزل: میرے گلشن کے باغباں تم ہو

ملک و ملت کے ترجماں تم ہودین و سنت کے پاسباں تم ہو دھوپ بارش میں سائباں تم ہومیرے گلشن کے باغباں تم ہو کون کہتا ہے امن کا دشمنسچ میں الفت کا اک نشاں تم ہو میں تمہیں کیسے بھول سکتا ہوںزندگی بھر کی داستاں تم ہو بھیک کیوں مانگتے ہو غیروں سےخوب محنت […]

غزل

غزل: مرے غموں کا سمندر کچھ اتنا گہرا تھا

وہ جس کے حسن عمل کا جہاں میں چرچا تھاہمیشہ غم کے سمندر میں غرق رہتا تھا جمال یار کو ممکن نہیں بیاں کرناکوئی مثال بھی ہو تو بتاؤں کیسا تھا ہواءے عقل و خرد اس جگہ نہیں پہنچیجہاں پہ اہل جنوں کا چراغ جلتا تھا ندی خوشی کی کہاں گم ہوئی پتہ نہ چلامرے […]

نعت رسول

نعتیہ قطعات بموقع یومِ ولادت النبی

ان کی آمد سے قبل تھی ظلمتان کے آنے سے جگ ہوا روشنہر کلی کھل اُٹھی تھی آنے سےجن کی خوشبو سے ہے جہاں گلشن اب نہیں جمتیں کہیں اور بھی آنکھیں یہ مِریدید روضے کی ہوئی جب سے مجھے ایک جھلکتب کہیں جا کے محبت کی نظر مجھ پہ پڑی"مہرباں جب ہوئی آنکھوں پہ […]