غزل

غزل: ویسے انسانوں کو نگر میں ہم نے دریدہ دیکھا ہے

خون میں لت پت زخمی زخمی ایک پرندہ دیکھا ہےویسے انسانوں کو نگر میں ہم نے دریدہ دیکھا ہے یکجا میں طاقت ایسی قیصر و کسری کانپ اٹھےورنہ بکھرے تاروں کا ہم نے بھی نتیجہ دیکھا ہے کیسے ہیں خاموش ابھی تک رکھوالے قانون کے یاںاٹھتا ہوا آئین کا اس جا سب نے جنازہ دیکھا […]

غزل

غزل: ستانا اپنے پڑوسی کو اپنی عادت ہے

یہ آپ کا ہے کرم آپ کی عنایت ہےجہاں میں آج جو ہر سمت میری شہرت ہے اگر ہو عشق سے خالی عبادتیں تیریزمیں پہ سر کو جھکانا ترا اکارت ہے نثار کردے جو جاں دین کی تحفظ میںاسی کے واسطے فردوس کی بشارت ہے اصولِ بزمِ محبت سے جو نہیں واقفاسی کے حصے میں […]