سینے میں جس کے ہوگی کتابوں کی روشنیپائیں گے وہ نصاب کے تاروں کی رو روشنی پرتو سے کہ رہی ہے کناروں کی روشنیظلمت لیے ہے ساتھ چراغوں کی روشنی نمناک چشم دیکھ کے ظلمت کدے تلکپہنچیں گی خودبخود ہی شراروں کی روشنی آتی ہے تیرے حسن کا صدقہ اتارنےپڑتی ہے جو زمین پہ تاروں […]