غزل

غزل: گر زخم ملے گا بھی تو گلفام سا ہوگا

سوچا تھا محبت میں کچھ آرام سا ہوگاگر زخم ملے گا بھی تو گلفام سا ہوگا تُو نے جو کہا میرے لیے عام نہیں ہےپر تیرا کہا تیرے لیے عام سا ہوگا اکثر یہ تصوّر بھی ستاتا ھیکہ وہ لبخود جام ہی ہوگا یا فقط جام سا ہوگا اک بار مری آنکھ سے آنکھیں تو […]