غزل

غزل: ہوئے نہ لفظ ترے یا کمند ہوئے

کبھی پسند کبھی مجھ کو ناپسند ہوئےجو میری زات پہ احسان تیرے چند ہوئے تری زباں سے جو نکلے ہوئے وہ دل کے پارہوئے نہ لفظ ترے تیر یا کمند ہوئے انہیں جہان میں رتبہ ملا ہے کیا عالیسخن سے اور جو حکمت سے بحرہ مند ہوئے مرے خدا مجھے رکھنا قطار میں ان کیترے […]

غزل

غزل: اداسی بھی متاعِ کارواں معلوم ہوتی ہے

یہاں جو اس قدر آہ و فغاں معلوم ہوتی ہے کسی کے آنسوؤں کی داستاں معلوم ہوتی ہے عجب ہی بے قراری ہے عجب ہے بے بسی دیکھو کسی قاتل کے پنجے میں یہ جاں معلوم ہوتی ہے مرا تم حوصلہ دیکھو کہ ہر اک گام پر منزل مجھے گردِ سفر اور بے نشاں معلوم […]

غزل

غزل: یا جدائی کا ارادہ کر لیا جائے

عداوت کی سیاہی میں اُجالا کر لیا جائےمحبت کی زمیں پر آج سجدہ کر لیا جائے پیامِ دوستی دے کر اُسے دل سے دعا دے کرپرایا تھا کبھی جو اس کو اپنا کر لیا ہے ابھی کچھ دور منزل ہے ابھی دشوار رستے ہیںابھی ان ریگزاروں میں بسیرا کر لیا جائے چلو اک فیصلہ کر […]

غزل

غزل: اسیرانِ محبت کو رہائی تنگ کرتی ہے

وفا کے ساتھ جانم بے وفائی تنگ کرتی ہے مجھے تھوڑی سی تیری کج ادائی تنگ کرتی ہے جدا ہونے سے پہلے تم ذرا یہ سوچ لو جانم تمہاری ایک پل کی بھی جدائی تنگ کر تی ہے اداسی میں بدل جاتے ہیں منظر دل لگی کے سب تمہاری یاد مجھ کو انتہائی تنگ کرتی […]