غزل

غزل: تم دن کے اجالے میں سیہ رات کرو ہو

تم بھی تو میاں خوب کرامات کرو ہوتم دن کے اجالے میں سیہ رات کرو ہو دشمن وہ تمہارا ہے مگر ہم نے سنا ہےتم اس سے اکیلے میں ملاقات کرو ہو کیا اجر ملیگا یہ بھلا کیسے بتائیںتم سب کو دکھاتے ہوئے خیرات کرو ہو تم نے تو کبھی اتنی محبت نہ دکھائیکیا بات […]

غزل

غزل: مرے غموں کا سمندر کچھ اتنا گہرا تھا

وہ جس کے حسن عمل کا جہاں میں چرچا تھاہمیشہ غم کے سمندر میں غرق رہتا تھا جمال یار کو ممکن نہیں بیاں کرناکوئی مثال بھی ہو تو بتاؤں کیسا تھا ہواءے عقل و خرد اس جگہ نہیں پہنچیجہاں پہ اہل جنوں کا چراغ جلتا تھا ندی خوشی کی کہاں گم ہوئی پتہ نہ چلامرے […]